نئی دہلی، 5 ؍اگست(ایس ونیوز/آئی این ایس انڈیا )طے شدہ پروگرام کے مطابق آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے بینر تلے قرآن شریف کی توہین کرنے والوں کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بعد نماز جمعہ دہلی کے مسلمان بڑی تعداد میں وِدھان سبھا میٹرو کے سامنے جمع ہوکر اور تنظیم کے قومی صدر مفتی اشفاق حسین قادری اور مولانا افتخار حسین رضوی کی مشترکہ قیادت میں جلوس کی شکل میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف بڑھے کچھ دور چل کر پولیس نے جلوس کو روک لیا اور بہرصورت آگے بڑھنے نہیں دیا۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے قائدین جلوس سے گفتگو کی اور دفعہ۱۴۴کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبات کا میمورنڈم حاصل کیا۔دہلی کے پُرجوش مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اشفاق حسین قادری نے کہا کہ قرآن عظیم جیسی مقدس کتاب جو امت مسلمہ کواپنی جان سے زیادہ عزیزہے اس کی توہین کوئی کب مسلمان برداشت کرسکتا ہے ۔ ہمارے دلوں میں اسکی عظمت و برکت اتنی زیادہ ہے جسکو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اب اس کی تو ہین کرنے والے شخص کو ہم کیفرے کردار تک پہنچائیں گے۔مولانا افتخار حسین رضوی نے شدید مذمت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے نریش یادو کو سیدھے طور مجرم مانا ہے اور کہا کہ ہم وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہماری مذہبی کتاب کی توہین کے معاملے میں اپنے ایم ایل اے کی طرف داریاں کیوں کررہے ہیں۔ اس قسم عمل کی مذمت کیوں نہیں کی۔ مابعد حاجی شاہ محمد قادری نے کہا کہ مقام افسوس یہ ہے کہ ایک مسلم ایم ایل اے کے ویڈیو کے معاملے میں وزارت سے ہٹادیا گیا جبکہ اس کی کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی مگر وزیراعلیٰ اروندکیجریوال قرآن شریف کی توہین جیسے سنگین معاملے میں خاموش طماشائی بنے ہوئے ہیں۔تنظیم کے قومی جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے کہا کہ صرف قرآن شریف کو ہی اسلام کی مقدس کتاب کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کے متن کا ہر لفظ پوری طرح سے مستند ہے ، کیونکہ اس کی ہر ہر آیت کا ایک ایک لفظ اسی طرح سے محفوظ ہے جس طرح حضور نبی کریم ﷺ نے بتایا تھا۔ اسلام کے بنیادی سرچشمۂ ہدایت کے طور پر اس کی سند کو سبھی زبانوں میں مسلمانوں کے سبھی طبقات نے تسلیم کیاہے ۔ یہی وہ کتاب مقدس ہے جسے انسانی سماج کی اصلاح کی جدوجہد کے لئے بنیاد بنایا جاناچاہئے۔صوبائی سکریٹری قاری صغیر احمد رضوی نے کہا کہ قرآن مقدس وہ واحد کتاب ہدایت و احکام ہے جس کی حضور نبی کریم کے زیر ہدایت ترتیب تدوین کی گئی۔ اللہ کے کلام کو حضور نے سبھی زبانوں کے لئے ایک مکمل قطعی اور روانی تعلیمات کے طور پر فلاح انسانیت اور اساس اسلام کے طور پر پیش فرمایا۔جلوس احتجاجی مظاہرہ کے آخر میں انجینئر شجاعت علی قادری نے عوام کو میمورنڈم پڑھ کر سنایا، دعاء و صلوۃٰ وسلام پر یہ عظیم الشان مظاہرہکا اختتام ہوا۔ خطاب کرنے والوں میں خاص طور پر مولانا تسلیم رضا، مولانا غلام محمد، مولانا اقبال رضا مصباحی، مولانا شکیل احمد جائسی، مولانا انصاررضا، حافظ اسلام رضوی، مفتی توفیق احمد، انجینئر شاہد ملک، مولانا ناصر، مفتی شاکر القادری، مولانا سید انتظار علی، مولانا عبدالجلیل ، مولانا رضوان، قاری فردوس، قاری شکیل، مولانا ثناء اللہ ، قاری محمد عالم، مولانا مشرف عالم رضوی، مولانا عبدالواحد خاں رضوی، قاری فرقان، مولانا شرف عالم ،مولانا قاری رفیق، مولانا عباس، مولانا محمد عمر، مولانا حجتہ الاسلام، مولانا شمشاد احمد ، حافظ سلیم رضا، مولانا صادق، قاری باصرعلی،قاری شعبان،حافظ زاہد رضا، قاری جمشید عالم، قاری عمران رضا وغیرہ کے علاوہ دہلی کے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔