ممبئی18مارچ (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس نے آج کہاکہ قرض کی ادائیگی میں ناکام رہنے والے کسانوں کو دوبارہ قرض نظام سے جوڑنے کی منصوبہ بندی تیار کرنے کے معاملے پر ان کی مرکز کے ساتھ مثبت بحثیں ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو دوبارہ ادارہ قرض نظام سے اس طرح سے جوڑا جائے کہ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری متاثر نہ ہو۔وزیراعلیٰ نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ انہوں نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور وزیر زراعت رادھاموہن سنگھ کو یقین دلایا کہ ریاست کسانوں کی مددکے لئے منصوبہ بندی میں اپنے حصے کی شراکت دینے کو لے کر تیارہے۔فڑنویس نے کہاکہ1.36کروڑ کسانوں میں سے 31لاکھ کے قریب 30500کروڑ روپے کے قرض بقایا ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ کسان نئے قرض کے لئے اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔انہیں ادارہ جاتی نظام سے دوبارہ جوڑنے کی ضرورت ہے۔لیکن ہم وقت پرقرض دے چکے ایک کروڑ سے زیادہ کسانوں کو مراعات دیں گے۔کیونکہ اس طرح کے فیصلے راتوں رات نہیں لئے جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر وقت پر کسانوں کویہ پیغام جائے کہ قرض کے بقایے کے ادانہ ہونے پرقرض معاف کر دیا جائے گا تواس سے بینکاری نظام تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ کسانوں کے درمیان ایک غلط پیغام جائے گا۔فڑنویس نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کسان دوبارہ متاثرنہ ہوں۔