نئی دہلی، 5/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حکومت ہوائی سفر کے دوران غلط برتاؤ کرنے والوں پر لگام کسنے کی تیاری کر رہی ہے۔اس کے لیے حکومت نے کچھ قانون بنایا ہے۔قانون کو لاگو کرنے سے پہلے حکومت نے عوام سے مشورہ طلب کیا ہے۔شہری ہوابازی کے وزیر اشوک گجپتی راجو نے نئے قانون کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کو عوام کی تجاویز حاصل کرنے کے بعد جون میں لاگو کیا جائے گا، نئے قوانین میں نو-فلای لسٹ کو شامل کیا گیا ہے۔جس کے مطابق مسافر اگر فلائٹ میں یا ہوائی اڈے پر کوئی مشکل پیدا کرتے ہیں، تو اسے جرم تصور کیا جائے گا۔اس جرم کے لیے تین ماہ سے لے کر دو سال یا اس سے زیادہ وقت تک کے لیے ہوائی سفر پر پابندی عائد ہوگی۔جرم کو تین زمرے میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا اشاروں کے ذریعے فلائٹ میں رکاوٹ ڈالنا، دوسرا جسمانی طور پر توہین آمیز سلوک اور جنسی تشدد، تیسرا کسی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا۔موجودہ قوانین کے مطابق،ایئر لائن کسی مسافر کی طرف سے غلط برتاؤ کرنے یا دوسرے مسافروں کو کسی مسافر سے خطرہ ہونے پر مسافر کو طیارے میں چڑھنے سے روک سکتی ہیں۔غورطلب ہے کہ نو فلائی لسٹ کو نہیں ماننے والے مسافر ایئر ٹکٹ بک نہیں کر پائیں گے،اور ایک بار نو فلائی لسٹ میں نام آنے کے بعد مسافر ٹکٹ بھی بک نہیں کر سکتا ہے۔حالانکہ نئے قانون کے مطابق،پابندی ایک مخصوص وقت کے لیے لگائی جائے گی،مسافر کو اپیل پاس کرنے کا حق بھی ہوگا۔واضح رہے کہ 23/مارچ کو شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ رویندرگائیکواڑنے ایئر انڈیا کے ملازم کو چپل سے پیٹا تھا۔اس واقعہ کے بعد ایئر انڈیا کی جانب سے نئے قانون کو لاگو کئے جانے کا مطالبہ ہو رہا تھا، ایئر انڈیا کے اسی مطالبہ کے پیش نظر حکومت نے نیاقانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔قابل ذکرہے کہ رویندر گائیکواڑ کا معاملہ سامنے آنے پر ایئر انڈیا نے ان کا ٹکٹ منسوخ کر دیا تھا اور ان کے سفر پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی،بعد میں گائیکواڑ نے اس واقعہ پر معافی مانگ لی تھی، جس کے بعد ان پر عائد پابندی ہٹالی گئی۔