احمد آباد،2؍اگست (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )فیس بک پر گجرات کی وزیر اعلی آنندی بین پٹیل کے استعفی کے ایک دن بعد اب لوگوں کی توجہ اسی بات پر مرکوز ہے کہ ریاست میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پہلے ان کے متبادل کے طور پر بی جے پی کسے منتخب کرتی ہے۔ریاست کے وزیر صحت نتن پٹیل اور گجرات کے بی جے پی سربراہ فی الحال دوڑ میں سب سے آگے چل رہے ہیں۔بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا کہ پارٹی کی اعلی باڈی، پارلیمانی بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ آنندی بین پٹیل کی جگہ کون لے گا۔انہوں نے کہا کہ آنند ی بین نے وزیر اعلی کا عہدے اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ وہ جلد ہی 75سال کی ہو جائیں گی اور انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑی عمر کے لیڈروں کو ریٹائر کرنے کے پارٹی کے اصول کا احترام کیا ہے۔آنندی بین پر گجرات کے دو اہم واقعات، پٹیل تحریک اور گؤ رکشکوں کی طرف سے چار دلت نوجوانوں کی بے رحمی سے پٹائی کی وجہ سے بھڑکے دلتوں کے غصے کے معاملے کو ٹھیک طرح سے ہینڈ ل نہیں کرپانے کا الزام ہے۔ایسے میں ان کے جانشین کے سامنے 2017کے اسمبلی انتخابات سے پہلے حالات کو ترجیح کی بنیاد پر ٹھیک کرنے کا مشکل چیلنج ہوگا۔مقامی بی جے پی لیڈروں کی شکایت ہے کہ پارٹی نے تقریبا 25سال کے دور حکومت میں جو مقبولیت حاصل کی تھی اسے آنندی بین نے نقصان پہنچایا ہے، لیکن وزیر اعلی کے قریبی ذرائع کے مطابق آنندی بین کا خیال ہے کہ تحریکوں کو پارٹی میں موجود ان کے مخالفین نے ہی ہوا دی ہے ۔واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد وزیر اعظم مودی کے دہلی جانے کے بعد نریندر مودی نے آنندی بین کو گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر منتخب کیا تھا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ آنندی بین پٹیل ریاستی انتظامیہ میں امت شاہ کی مبینہ مداخلت سے پریشان تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ شاہ کے ساتھ ان کے تعلقات زیادہ اچھے نہیں ہے۔ذرائع نے یہاں تک الزام لگایاہے کہ ریاست کے افسران وزیر اعلی کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست شاہ کے قریب تھے۔انہوں نے کہا کہ دباؤ نہیں ہوتا تو وہ نومبر میں اپنی 75ویں سالگرہ سے پہلے عہدہ نہیں چھوڑتیں۔گجرات کے اگلے وزیر اعلی کے عہدے کی دوڑ میں شامل لیڈروں میں وجے رپانی بھی ہیں۔جین لیڈر روپانی کو امت شاہ اور وزیر اعظم مودی، دونوں کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ریاستی انتظامیہ پر بھی روپانی کی اچھی گرفت بتائی جاتی ہے۔وزیر اعلی کے عہدے کے ایک اور دعویدار نتن پٹیل ہیں جو گجرات حکومت میں کئی وزارت سنبھال چکے ہیں۔آنندی بین کی ہی طرح وہ شمالی گجرات سے پٹیل لیڈر ہیں۔وہ اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے پاٹیدار تحریک کے بعد سرکاری ملازمتوں اور کالجوں میں ریزرویشن کے مسئلے پر پاٹیدار لیڈروں سے بات چیت کی تھی، حالانکہ پٹیل تحریک کے لیڈر 23سالہ ہاردک پٹیل کی غداری کے الزام میں گرفتاری کے ان کے مشورہ کو غیر دانشمندانہ مشورہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وزیر موصوف نے جب بھی اپنے آبائی ضلع مہسانا کا دورہ کیا، پٹیل تحریک سے وابستہ لیڈروں نے ہر بار ان کی مخالفت کی۔