نئی دہلی، 16؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ایک وکیل نے آج دعوی کیا کہ عصمت دری کے الزام میں گرفتار آپ رکن اسمبلی سندیپ کمار کو جیل میں مارا گیا ہے لیکن برخاست وزیر کی بیوی نے الزام سے انکار کیا اور کہا کہ یہ سیاسی سازش ہے کیونکہ انہوں نے وکیل مقرر نہیں کیا۔وکیل اے پی سنگھ کی درخواست پر خصوصی جج پونم چودھری طرف جیل سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد کمار کی بیوی ریتو اور ان کے وکیل پردیپ رانا نے ایک پریس کانفرنس میں الزامات کو مسترد کیا۔کمار 23؍ستمبر تک تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں ہیں۔عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے سنگھ کی عرضی پر 20؍ستمبر تک جواب دینے کو کہا۔اس درخواست میں جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے لگوانے اور عدالت کے سامنے رکن اسمبلی کی پیشی کی ویڈیو کروانے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے ۔اس میں الزام لگایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔درخواست میں حملے کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا گیا، لیکن سنگھ نے زبانی طور پر کہا کہ وہ جیل میں ممبر اسمبلی سے ملے تھے اور انہوں نے بتایا کہ ان کو وہاں پیٹا گیا ہے اور اذیتیں دی گئی ہیں۔شام کو پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی کی بیوی ریتو نے کہا کہ وہ آج صبح ہی جیل میں اپنے شوہر سے ملی ہیں اور ان پر حملے کے الزامات غلط ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ اس کے پیچھے سیاسی سازش ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی کمار نے سنگھ کو ممبر اسمبلی کا وکیل مقرر کیا ہے۔ریتو کے ساتھ موجود ایڈووکیٹ رانا نے کہا کہ دوسرے وکیل کی طرف سے عدالت میں درخواست وکالت نامے کے بغیر دائر کی گئی اور جب کمار کی بیوی نے جیل میں ان سے ملاقات کی تو ممبر اسمبلی نے تصدیق کی کہ انہوں نے کسی دوسرے وکالت نامے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی ٹھیک ہیں اور ان پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔