نئی دہلی، 30؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج دہلی کے وزیر صحت کے اس الزام پر سخت اعتراض کیا کہ قومی دارالحکومت میں ڈینگو اور چکن گنیا جیسی مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر لگام کسنے کے لئے افسر تعاون نہیں کر رہے ہیں اور ذمہ داری نہیں لے رہے ہیں۔عدالت عظمی نے وزیر سے تین اکتوبر تک ایسا کرنے والے افسران کے نام اور ثبوت دینے کو کہا۔جسٹس ایم بی لوکر کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ آپ نے اپنے حلف نامے میں سنگین الزام لگائے ہیں،آپ کی اطاعت نہ کرنے والے افسر کون ہیں؟ دہلی میں لوگ ڈینگو اور چکن گنیا میں مبتلا ہیں،آپ ان سے ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے ایک مفاد عامہ کی عرضی پر دہلی حکومت کو جاری نوٹس کے جواب میں حلف نامہ دائر کیا جس پر عدالت عظمی نے از خود نوٹس لیا۔اس میں کہا گیا کہ افسر بیماریوں پر لگام کسنے میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔جین نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ افسر ذمہ داری نہیں لے رہے ہیں اور ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بیماریوں سے منسلک تمام فائلوں منظوری کے لئے گورنر کے پاس بھیجی جا رہی ہیں۔عدالت عظمی نے 26ستمبر کو دہلی حکومت سے قومی دارالحکومت میں ڈینگواور چکن گنیا جیسی بیماریوں سے لڑنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر جواب طلب کیا تھا۔بنچ نے دہلی حکومت کی جانب سے پیش وکیل سے کہا کہ اطاعت نہ کرنے والے افسران کے نام اور ثبوت پیر تک دئے جائیں،یہ سنگین معاملہ ہے۔وکیل نے نام اور ثبوت دینے کے لئے کچھ وقت مانگا اور کہا کہ وہ سیل بند لفافے میں ان افسران کے نام بتائیں گے جو تعاون نہیں کر رہے ہیں۔