نئی دہلی، 28؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام آدمی پارٹی کے چار باغی ممبران پارلیمنٹ گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ وقت سے اس کے لیے پریشانیاں کھڑی کر رہے ہیں لیکن پارٹی نے پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے ایک اور مورچہ کو ہوا دینے سے بچنے کی خاطر انہیں برخاست نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ ذرائع نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیاہے ، کیونکہ اس سے ایک اور مورچہ کھڑا ہو جائے گا جس کا مطلب ہے کہ پارٹی کو اپنی توانائی اس مہم سے ہٹا کر دوسری طرف لگانی پڑے گی۔پارٹی اس سے پہلے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن جیسے باغی لیڈروں کو نکال باہر کر چکی ہے لیکن ممبران پارلیمنٹ کو نکالنے کا مطلب ہو گا کہ انہیں دل بدلو مخالف قانون کے دائرے سے چھٹکارہ مل جائے گا۔آپ ممبر پارلیمنٹ بھگوت مان سنگھ پارلیمنٹ ہاؤس کا ویڈیو بنانے اور اس کو براہ راست نشر کرنے کے معاملہ میں تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ان پر معطل آپ رکن پارلیمنٹ ہریندر سنگھ خالصہ نے ایوان میں شراب پی کر آنے کا بھی الزام لگایا ہے جس نے پارٹی کے لیے شرمندگی پیدا کردی ہے ، حالانکہ بھگوت مان نے شراب پی کر پارلیمنٹ میں آنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔پٹیالہ کے معطل آپ رکن پارلیمنٹ دھرم ویر گاندھی نے ایسے وقت میں ایک متبادل سیاسی محاذ کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جب آپ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شرومنی اکالی دل - بی جے پی اتحاد سے اقتدار چھیننے میں اپنی توانائی صرف کر رہی ہے۔دونوں ممبران پارلیمنٹ کو یادو اور بھوشن کو پارٹی سے نکالنے کے لیے آپ قیادت پر تنقید کرنے کی وجہ سے پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا۔