نئی دہلی، 2؍ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے سہارا سے پوچھا ہے کہ 23ہزار کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ عدالت عظمی نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیسے آسمان سے تو نہیں برسے ہوں گے، آپ کہیں نہ کہیں سے پیسے تو لائے ہوں گے؟سپریم کورٹ نے کہا یا تو پیسہ ایک کمپنی کی طرف سے دوسرے کمپنی سے لئے گئے ہوں ، یا پھر آپ نے کسی کمپنی سے ادھار لئے ہوں، یا پھر آپ نے کوئی سامان فروخت کیا ہو۔عدالت نے کہا کہ آپ دعوی کر رہے ہیں کہ آپ نے سبھی سرمایہ کاروں کو دو مہینے کے اندر 23ہزار کروڑ لوٹا دئیے ، ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں یہ پیسے کہاں سے آئے ؟ عدالت عظمی نے کہا کہ اگر آپ یہ بتا دیں کہ آپ پیسے کہاں سے لائے تو ہم معاملے کو ختم کر دیں گے؟ یہ کہتے ہوئے کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 16؍ستمبر طے کر دی۔دراصل، سپریم کورٹ سہارا چیف سبرت رائے کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ان کے پیرول کی مدت 16؍ستمبر تک بڑھا دی تھی۔سہارا سربراہ نے عرضی داخل کر کے کہا ہے کہ وہ مزید 300کروڑ روپے جمع کرا دیں گے اور یہ روپے پانچ ہزار کروڑ کی بینک گارنٹی کے طور پر لئے جا سکتے ہیں۔اس طرح سہارا سربراہ ضمانت کی شرط کے 5000کروڑ روپے جمع کر چکے ہیں جبکہ اتنی ہی بینک گارنٹی جمع کرانی ہے۔واضح رہے کہ 6؍مئی کو سپریم کورٹ نے سبرت رائے کو اپنی ماں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے 4ہفتے کی پیرول دی تھی۔