نئی دہلی، 24؍جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ ایئر سیل میکسس2 -جی اسپیکٹرم معاملے میں اسٹیٹ بینک کی قیادت والے بینک گروپ کا موقف سننے سے متعلق درخواست پرسماعت کے لیے تیار ہو گیا۔اس درخواست پر 3؍فروری کو سماعت ہوگی۔بینکوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سودے میں شامل کمپنیوں کو قرض دیا ہے۔بینکوں کے گروپ کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے یہ کہتے ہوئے معاملے کی فوری سماعت کی اپیل کی کہ عوامی علاقے کے ان مالیاتی اداروں نے ایئر سیل کو قرض دیا ہے۔ان کی اپیل پرسپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ وہ عرضی پر اس معاملے کی سماعت کے لیے طے تاریخ کو ہی سماعت کرے گی۔اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 6؍جنوری کو معاملے میں سخت رخ اپناتے ہوئے ملیشیا کی کمپنی میکسس کے 2 -جی لائسنس کے ٹرانسفر پر روک لگا دی تھی، یہ لائسنس بنیادی طور پر ایئر سیل کوالاٹ کیا گیا ہے۔عدالت نے ملیشیا کے کاروباری اور میکسس گروپ کے مالک ٹی آنند کرشنن اور کمپنی کے ایک افسر رالف مارشل کو 3؍فروری کو اپنے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔عدالت عظمی نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہونے پر ایئر سیل کو دیا گیا 2 -جی لائسنس ضبط کر لیا جائے گا۔اٹارنی جنرل نے بنچ کو بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیوں میں بینکوں کا کافی پیسہ لگا ہوا ہے اس لیے وہ اس معاملے میں متاثرہ فریق ہے۔اس سے قبل سماعت میں عدالت نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا تھا کہ کمپنی یہاں کی عدالتی کاروائی کو نظر انداز کر رہی ہے۔بنچ نے کہا تھاکہ ہم ایسے شخص کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے جو ہندوستان کے اسپیکٹرم جیسے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں لیکن عدالت کے نوٹس کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنند کرشنن قانون سے نہیں بچ سکتے ہیں۔