لکھنؤ،5؍فروری (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا عمل جاری ہے۔گوا اور پنجاب میں ووٹنگ ہو گئی ہے اور اب سب کی نگاہیں اتر پردیش کی جانب ہیں۔انتخابی تاریخ نزدیک آ رہی ہے اورسیاسی لیڈروں کی انتخابی ریلیاں اور تیکھے حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔لیڈران ایک دوسرے پر حملے کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔ہفتہ کو میرٹھ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجوادی پارٹی، کانگریس اور مایاوتی پر شدید حملہ بولا تھا۔وہیں، اس کے جواب میں سماج وادی پارٹی لیڈر اور اتر پردیش حکومت میں وزیر اعظم خان نے بھی سخت حملہ بولا ہے، ایس پی لیڈر اعظم خان نے ایک انتخابی ریلی میں نریندر مودی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ وہ 131کروڑ ہندوستانیوں کا بادشاہ ہے، راون جلانے لکھنؤ جاتا ہے، لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ سب سے بڑا راون لکھنؤ میں نہیں دہلی میں رہتا ہے۔اعظم خان نے وزیر اعظم مودی کے لباس کو لے کر بھی حملہ بولا ، اتنا ہی نہیں اعظم خان نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ ایک چائے بیچنے والے کے پاس اتنے مہنگے کپڑے کہاں سے آئے ؟اعظم خان نے الزام لگایا کہ مودی جی نے دو سال میں 80کروڑ روپے کے کپڑے بنوائے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والے 5سالوں میں 200کروڑ کے کپڑے بنوائے جائیں گے۔انہوں نے سوال کیا کہ جب وزیر اعظم چائے بیچتے تھے اور مزدور کے بیٹے ہیں تو اتنے مہنگے کپڑے کس نے دئیے ؟ یہ جواب مجھے ہی نہیں ملک کو بھی دینا ہوگا۔اعظم خان نے کہا کہ ملک کے بادشاہ کہتے ہیں کہ میں تو فقیر ہوں ،تھیلے لے کر چلا جاؤں گا، لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ تھیلے جس میں امبانی، اڈانی اور وجے مالیا ہیں، وہ تھیلے ہم نہیں لے جانے دیں گے۔اعظم خان نے وزیر اعظم نریندر مودی پر آگے سخت حملہ بولتے ہوئے کہا کہ جو بیوی کو اس کا حق نہیں دے سکا، ماں کو اس کا درجہ نہیں دے سکا، وہ بیٹیوں کو کیا دے گا؟یوپی کے وزیر اعظم خان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستانی دورے پر سوال کیا. اعظم خان نے کہا کہ خاموشی ملک کے بادشاہ پاکستان چلے گئے اور نواز شریف کی ماں کے لئے کشمیری شال لے کر گئے. ان کے لئے شال لے گئے جو بھارت کی سرحد پر تعینات جوانوں کے سر کاٹ کر لے گئے تھے. اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی بادشاہ خاموش رہے. یہ کیسا دوستی ہے؟