نیویارک،19؍جولائی(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کلیولینڈ میں جاری پارٹی کے سالانہ کنونشن کے دوران ٹرمپ کی نامزدگی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔ٹرمپ کے مخالفین نے رائے شماری کروانے کی کوشش کی جس کے تحت کنونشن میں شامل مندوبین کو اپنی مرضی کے کسی امیدوار کا انتخاب کرنے کی آزادی مل جاتی، تاہم اطلاعات کے مطابق تین ریاستوں کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے کنونشن میں سینئر رہنماؤں کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ایوانِ نمائندگان کے سابق سپیکر نیوٹ گنگرِچ نے بش خاندان کو بچگانہ کہا ہے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے اوہائیو کے گورنر اور صدارتی امیدواری کی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف جان کیسک کو بدخو قرار دیا ہے۔کنونشن کے دوران ہر پارٹی باضابطہ طور پر اپنے صدارتی امیدوار کا اعلان کرتی ہے، اور اس موقعے پر پارٹی کا منشور منظرِ عام پر لایا جاتا ہے۔ریاستی کنونشنوں میں منتخب شدہ ہر امریکی ریاست اور علاقے سے تعلق رکھنے والے 2472مندوبین اس کنونشن میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے کرتا دھرتا بھی حصہ لے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی نامزدگی کی وجہ سے پارٹی کے اندر بظاہر دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں۔ پارٹی کے اندر ٹرمپ کے حامی اور مخالف دھڑوں کے درمیان کشیدگی پیر کی صبح جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔نیوٹ گنگرچ نے اے بی سی نیوز کو بتایا: رپبلکن پارٹی نے بش خاندان کے ساتھ اچھا سلوک کیا، (جس کے جواب میں)وہ انتہائی کم احسان مندی دکھا رہے ہیں۔دو سابق رپبلکن صدور جارج ایچ ڈبلیو بش اور جارج ڈبلیو بش نے ٹرمپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ٹرمپ نے بش جونیئر پر عراق جنگ اور نائن الیون حملوں کے حوالے سے تنقید کی تھی، جب کہ وہ صدارتی نامزدگی کی دوڑ کے دوران بش جونیئر کے چھوٹے بھائی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔سابق صدارتی امیدوار مٹ رامنی بھی کنونشن میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی وجہ سے ان کے خلاف ہیں۔امریکہ میں پولیس کے خلاف حالیہ حملوں کی وجہ سے کنونشن میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو چار روزہ کنونشن میں اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہے۔ وفاقی اور ریاستی سکیورٹی اداروں کے ہزاروں ارکان کلیولینڈ میں موجود ہیں۔