نئی دہلی،9؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)روی شاستری اور سوربھ گانگولی کی دشمنی کھیل مداحوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی)کی جانب سے گزشتہ سال انل کمبلے کو ٹیم انڈیا کا کوچ بنائے جانے کے بعد یہ کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی تھی۔دراصل کرکٹ کی جس ایڈوائزری کمیٹی نے کمبلے کو کوچ کے طور پر منتخب کیا تھا، گنگولی اس کا حصہ تھے۔کوچ کے طور پر کمبلے کا نام حتمی کئے جانے کے بعد روی اور گانگولی کے درمیان کی یہ تلخی عوامی طور پر لوگوں کے درمیان اس وقت سامنے آئی تھی جب ان دونوں نے ایک دوسرے پر پیشہ ورانہ رخ کی کمی کا الزام لگایا تھا۔تاہم اس تنازعہ کے بعد دونوں سابق کرکٹرز نے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے 500ویں ٹیسٹ کے جشن میں کانپور میں ساتھ نظر آئے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔دھونی کے ون ڈے۔ٹی20 فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کے فیصلے کے فورا بعد ٹیم انڈیا کے سابق ڈائریکٹر روی شاستری کے بیان نے ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔روی شاستری نے دھونی کو نہ صرف ’’دادا کپتان‘‘بتایا بلکہ گانگولی کو بہترین ہندوستانی کپتانوں کی فہرست میں بھی جگہ نہیں دی۔دھونی کی پرزور حمایت یافتہ مانے جانے والے شاستری نے یہ بھی کہ کہا کہ اس وکٹ کیپر بلے باز کے کپتانی چھوڑنے کے فیصلے کی ٹائمنگ بہت اچھی تھی۔
شاستری نے کہا کہ دادا کپتان کو میرا سلام،اس سے وراٹ (کوہلی)کو چمپئنز ٹرافی تک وقت ملے گا اور ٹیم اپنے خطاب کا دفاع کرنے کی تیاری کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ دھونی ساری اہم کپ حاصل کر چکے ہیں اور انہیں اب کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو میں انہیں ہندوستان کا سب سے کامیاب کپتان مانتا ہوں۔اس معاملے میں اور کوئی ان کے ارد گرد بھی نہیں ہے۔ٹیم انڈیا کے سابق کرکٹر شاستری نے کہا کہ اس معاملے میں دھونی کے پیچھے کپل دیو ہیں جن کی قیادت میں ہندوستان نے 1983میں ورلڈ کپ جیتا اور 1986میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی۔ون ڈے کرکٹ کے پہلے والے دور میں اجیت (واڈیکر)تھے جنہوں نے 1971میں ویسٹ انڈیز اور پھر انگلینڈ میں مسلسل ٹیسٹ سیریز جیتیں۔یقینی طور پراپنے مختلف اسٹائل کی وجہ سے ٹائیگر (پٹودی)بھی ہیں،باقی کوئی نہیں۔تاہم شاستری اپنی رائے ظاہرکرنے کے لئے آزاد ہیں لیکن گانگولی کے ٹیم انڈیا کے کپتان کے طور پر ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان کی رائے کرکٹ کے گلے اترے گی، اسے لے کر شک ہے۔دادا کے نام سے مقبول رہے سوربھ نے 49ٹیسٹ میں ہندوستانی ٹیم کی کپتانی کی اور ان کا جیت کا ریٹ 42.6فیصد ہے۔گانگولی کی کپتانی نے ٹیم انڈیا نے 147میچوں میں سے 76میں فتح حاصل کی جبکہ 66میں اسے ہارنا پڑا،تاہم دھونی کا کپتان کے طور پر ریکارڈ کے پیشرو کپتان سے بہتر ہے لیکن گانگولی کو بہت پیچھے نہیں مانا جا سکتا ہے۔گانگولی کی جانب سے اس معاملے میں ابھی کوئی رد عمل نہیں آیاہے۔