دہرادون، 28؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس نڈیا )کانگریس تنظیم اور ممبران اسمبلی کے دباؤ کے درمیان اتراکھنڈ کے وزیر اعلی ہریش راوت نے آج ریاستی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے دو کانگریسی ممبران اسمبلی نوپربھات اور راجندر بھنڈاری کو اس میں شامل کر لیا۔وکا س نگر سے رکن اسمبلی نوپربھات اور بدری ناتھ کے ممبر اسمبلی بھنڈاری کو صبح گورنرہاؤس میں منعقد ایک سادہ تقریب میں گورنر ڈاکٹر کرشن کانت پال نے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔تقریب کے دوران وزیر اعلی راوت کے علاوہ ان کی کابینہ کے دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔اگلے سال کے آغاز میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے دو اور وزراء کے کابینہ میں شامل ہو جانے کے بعد وزیر اعلی راوت سمیت ریاستی کابینہ میں 12رکن ہو گئے ہیں۔راوت کے دہلی دورے سے واپس آنے کے دو دن بعد کابینہ کی توسیع کی گئی ہے۔مانا جا رہا ہے کہ کانگریس تنظیم اور ممبران اسمبلی کے دباؤ کی وجہ سے وزیر اعلی کو اس قواعد کو انجام دینا پڑا۔کل وزیر اعلی نے کہا تھا کہ انہوں نے نئی دہلی میں پارٹی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کے دوران ان کے سامنے بات رکھ دی ہے اور ان سے اجازت ملنے کے بعد کابینہ میں توسیع کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ کانگریس کے ریاستی صدر کشور اپادھیائے نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس قواعد کو اب اور نہیں ٹالا جانا چاہیے۔اپادھیائے نے وزیر اعلی کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ ونیوجن بل منظور کرانے کے لیے 21اور 22؍جولائی کو طلب کئے گئے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے فورا بعد کابینہ میں توسیع کر دی جانی چاہیے اور اس کے لیے انہوں نے 23؍جولائی کی تاریخ کو مناسب بتایا تھا۔گزشتہ سال فروری میں بیماری کی وجہ سے اس وقت کے سماجی بہبود کے وزیر سریندر راکیش کے انتقال سے کابینہ میں ایک جگہ خالی ہو گئی تھی جبکہ اس سال مارچ میں سابق وزیر زراعت ہرک سنگھ راوت کے 9 دیگر کانگریسی ممبران اسمبلی کے ساتھ حکومت سے بغاوت کرنے کی وجہ سے کابینہ میں ایک اور عہدہ خالی ہو گیا تھا ۔