نئی دہلی،8 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )راجیہ سبھا میں آج کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے کشمیر کی بگڑتی صورت حال پر وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنی خاموشی توڑنے کامطالبہ کیا اور وہاں گزشتہ 30دنوں سے جاری کرفیو کی وجہ سے پیدا ہوئے شدید بحران کے حل کے لیے سیاسی عمل شروع کرنے کی اپیل کی ۔اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے کل جماعتی میٹنک بلانے، پیلیٹ گن کے استعمال پر روک لگانے کی بھی اپیل کی۔اراکین نے ایک کل جماعتی وفد کشمیر بھیجے جانے، عام رہائشی علاقوں سے فوج کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ۔حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد نے وقفہ صفر میں کشمیر کی بگڑتی صورت حال کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ وہاں مسلسل 30دنوں سے کرفیو نافذہے اور آزاد ہندوستان میں 1947کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے جب کسی صوبے میں مسلسل اتنے دنوں سے کرفیو لگا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور سرکاری دفاتر میں حاضری نہ کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں ہم حکومت کو بیدارکرنا چاہتے ہیں۔آزاد نے ضابطہ 267کے تحت اس موضوع پر بحث کے لیے نوٹس دیا تھا جسے قبول نہیں کیا گیا۔اس کے بعد وہ وقفہ صفر میں اس موضوع کو اٹھا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم خاموش ہیں اور شائقین کی طرح تماشہ دیکھ رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔سوشل میڈیا پر کئے گئے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ وزیر اعظم کی بات کو سننے کے لیے بے تاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا تاج جل رہا ہے لیکن اس کی گرمی دہلی تک نہیں پہنچ رہی ہے۔آزاد نے کہا کہ سیکو رٹی اہلکار سمیت 8 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔پیلیٹ گن کی وجہ 410لوگوں کی آنکھوں کی سرجری کی گئی ہے۔ایک ہزار سے زیادہ واقعات ہوئے اور تقریبا ایک ہزار نوجوان جیل میں بند ہیں، تقریبا 60لوگوں کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اسے عام قانون وانتظام کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے ، یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے کل جماعتی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اس کے بعد ایک کل جماعتی وفد کشمیر بھیجا جانا چاہیے تاکہ ہم ان کی بات سن سکیں۔
سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے کشمیر میں مسلسل 30دنوں سے کرفیو لگے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آزاد ہندوستان میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ سبھی ادارے بند ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 8 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 60افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔یچوری نے پیلیٹ گن کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور جرم بتایا۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ اسرائیل بھی پیلیٹ گن کا استعمال نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ ہماری خاموشی سے وہاں کے لوگوں میں تنہائی کے احساس میں اضافہ ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی خاموشی سے یہ پیغام جاتا ہے کہ حکومت کو ان کی فکر نہیں ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے بھی کل جماعتی میٹنگ بلائے جانے اور ایک وفد وہاں بھیجنے کا مطالبہ کیا۔سی پی آئی کے ڈی راجہ نے بھی سیاسی عمل کی شروعات کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صورت حال تشویش ناک ہے اور وہاں پیلیٹ گن کا استعمال بند ہونا چاہیے ۔انہوں نے شہری علاقوں میں فوج کی موجودگی کم کئے جانے پر بھی زور دیا۔