خراب سروس پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کولگائی پھٹکار
نئی دہلی29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کنٹرول روم کے100نمبر پر خراب سروس کو لے کر دہلی پولیس کو سخت پھٹکار لگائی۔ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم صرف آپ کی معافی نہیں چاہتے بلکہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آپ 100نمبر کو بہتر بنانے کیلئے کیا کیا کر رہے ہیں؟۔کورٹ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کا وہ مسئلہ ختم ہو جس میں وہ 100نمبر پر بار بار فون کرنے کے بعدبات نہیں کرپاتے۔اپنی سروس کو بہتر کرنے کیلئے آپ کیا کر رہے ہیں پولیس اور وزارت داخلہ نے اس معاملے میں کورٹ میں جج کوہوئی تکلیف پر تحریری طور پر معافی بھی مانگی۔پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ جو کالز 100نمبر پر آتی ہیں، وہ بہت زیادہ ہوتی ہیں اس لئے اب اہتمام کیا گیا ہے کہ جو بھی کال مس ہوتی ہے، اس کو کال بیک کیا جائے گا۔اس کے علاوہ تکنیکی طورپربھی سروس کو درست کرنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ساتھ ہی عملے کو بھی بڑھا جا رہا ہے۔پولیس نے اور ایکیوریسی لانے کے لئے اس مالی سال میں پی سی آر سینٹر کو پی سی آر گاڑی سے جوڑنے کی منصوبہ بندی بھی بنائی ہے ۔لیکن پولیس کاکہناہے کہ ابھی اس کام میں 663نئے عملے کو رکھنے کی ضرورت ہے۔ہائی کورٹ نے اس معاملے پر اس وقت نوٹس لیاتھاجب اپریل میں ہائی کورٹ کے ایک جج وسنت وہارکنج کے ٹریفک میں2گھنٹے تک پھنسے رہے۔انہیں ایک خاندانی پروگرام میں جاناتھا۔سڑک پرکوئی پولیس اہلکار نہ ہونے پرانہوں نے کئی بار 100نمبر پر فون کیا لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔پھر انہوں نے پولیس کمشنر کو ان کے موبائل پر فون کیا لیکن انہوں نے بھی نہ فون اٹھایا نہ ہی کال بیک کیا۔واقعہ سے انتہائی پریشان جج نے ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کو خط لکھا کہ پولیس جب ایک جج فون نہیں اٹھاتی توپھرعام لوگوں کا پولیس کی اس ہیلپ لائن کے ساتھ کتنا برا تجربہ کرے گا۔کورٹ نے اس خط پر نوٹس لیتے ہوئے اسے ایک مفاد عامہ کی عرضی میں تبدیل کر دیا اور پولیس سے پوچھا ہیلپ کی اتنی حالت بری کیوں ہے؟۔