شعبۂ اردو کیلئے حکومت کی اجازت نہ ملنے کا نتیجہ
بنگلورو6اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) داونگیرے یونیورسٹی کی لاپرواہی کے نتیجہ میں یہاں اردو پوسٹ گریجویشن پوسٹ کیلئے داخلہ لینے والے تیرہ طلبا کا مستقبل خطرہ میں پڑ چکا ہے۔ داونگیرے یونیورسٹی میں 2016-17 کیلئے اردو پوسٹ گریجویشن ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلے کیلئے جوپراسپکٹرس جاری کیا گیا اس میں واضح طور پر اردو کورسوں میں داخلوں کا تذکرہ کیاگیا تھا۔ اردو کورسوں میں داخلہ لینے کے بعد طلبا نے 14جولائی کوباضابطہ داخلہ امتحان بھی لکھ دیا ، لیکن ان کے نتائج کا اعلان نہیں کیاگیا ہے۔ یونیورسٹی نے اپنے اردوپوسٹ گریجویشن مرکز کیلئے ڈاکٹر گائتری دیوراج نامی پروفیسر کو سربراہ مقرر کردیا ہے، لیکن یونیورسٹی کو شعبۂ اردو شروع کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اجازت دینے سے انکار کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں ان طلبا کا داخلہ بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی تمنا میں ان طلبا نے جو داخلے لئے تھے وہ اب بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔یونیورسٹی نے واضح کردیا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے جب تک شعبۂ اردو کیلئے منظوری نہیں مل جاتی اس وقت تک ان کا داخلہ نہیں ہوسکتا۔ اس دوران یہ معاملہ وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات بسوراج رایا ریڈی کے علم میں لایاگیا۔ انہوں نے کہاہے کہ داونگیرے یونیورسٹی کی طرف سے شعبۂ اردو کی شروعات کے سلسلے میں اگر کوئی تجویز موصول ہوتی ہے تو حکومت اسے فوراً منظوری دے گی۔ انہوں نے طلبا کو دلاسہ دیا ہے کہ انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں جلد ہی یونیورسٹی سے تجویز ملنے کے بعد یہاں باضابطہ شعبۂ اردو کام کرنے لگے گا اور یونیورسٹی میں جن طلبا نے داخلہ لیا ہے ان کیلئے کورسوں کاانتظام کیا جائے گا۔