نئی دہلی، 2 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سعودی عرب میں پھنسے ہندوستانیوں کے بعد لوک سبھا میں آج مختلف خلیجی ممالک میں پھنسے ہندوستانی مزدوروں کے معاملے کو اپوزیشن اراکین نے اٹھایا اور مرکزی حکومت سے اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اور ایک وفد کو وہاں بھیجے جانے کا مطالبہ کیا۔ریو لوشن کاری سوشلسٹ پارٹی(آر ایس پی )کے این کے پریم چند رن نے وقفہ صفر میں ابو ظہبی میں کیرالہ کے رہنے والے 300ہندوستانی مزدورو ں کے پھنسے ہونے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ جس کمپنی میں یہ ملازم تھے اس نے گزشتہ 8 ؍مہینوں سے انہیں تنخواہ نہیں دی ہے اور ان کے پاسپورٹ بھی چھین لئے گئے ہیں اور ان کے ویزا کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی اطلاع مقامی پولیس اور وہاں واقع ہندوستانی سفارت خانے کو بھی دی گئی لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی مدد کے سلسلے میں بیان دیا تھا اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں بھی فوری طور پر کارروائی کریں گی۔شرومنی اکالی دل کے پریم سنگھ چند وماجرا نے وقفہ صفر میں پنجاب کے لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے 3 نوجوانوں کے لیبیا میں پھنسے ہوئے ہونے کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ایک تیل کمپنی کے مالکان نے ان نوجوانوں کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے، ان کے فون چھین لیے گئے ہیں اور تنخواہ مانگنے پر ان کی پٹائی کی گئی۔چند وماجرا نے کہا کہ سعودی عرب کی طرز پر کارروائی کرتے ہوئے لیبیا میں ویلڈر کے طور پر کام کرنے والے پنجاب کے ان نوجوانوں کی جان بچانے کے لیے مرکزی حکومت اور بالخصوص وزیر خارجہ فوری طور پر کارروائی کریں۔سی پی ایم کے پی کروناکرن نے عمان میں گزشتہ 20-25سالوں سے ملازم ہندوستانی نرسوں کو اسپتا لوں کی طرف سے کام سے نکالے جانے کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ حکومت خلیجی ممالک میں ملازم ہندوستانی کارکنوں کے معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھے۔کانگریس کے کے وینو گوپال نے کہا کہ ہندوستانی سفارت خانے کو 6 مہینہ پہلے اس معاملے کا علم تھا۔انہوں نے کہا کہ عمان میں ملازمت کررہیں 77نرسو ں کو برخاستگی کا نوٹس تھما دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اطلاع ہونے کے باوجود ہندوستانی سفارت خانے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سفارت خانے مناسب طریقے سے کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مرکزی ٹیم کو خلیجی ممالک میں بھیجنے کا مطالبہ کیا۔