وجے واڑہ ، 2 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )آندھرا پردیش کو مرکز کی جانب سے خصوصی ریاست کا درجہ دئیے جانے کے مطالبہ کو لے کر اہم اپوزیشن پارٹی وائی ایس آرکانگریس کے ریاست گیر بند کے اعلان کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے ہیں جبکہ تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے دن بھر کے بند کو اپنی حمایت دی ہے۔ریاست بھر میں کئی علاقوں میں پولیس نے کئی اپوزیشن کارکنوں کو اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرنے اور سرکاری ریاستی پبلک ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔کسی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر ریاستی روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے اپنی سروس کو معطل کر دیا ہے اور نیز تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ بینک اور دیگر تجارتی ادارے نہیں کھلے۔وجے واڑہ میں وائی ایس آر کانگریس کے کارکنوں کواس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ بس اسٹینڈ کے باہر احتجاج کر رہے تھے اور بسوں کے آمدورفت میں رکاوٹ پیداکر رہے تھے۔اس درمیان، پونو رو سے حکمران تیلگو دیشم پارٹی کے ممبر اسمبلی شہر میں آچاریہ این جی رنگا کے مجسمہ کے سامنے ایک روزہ ’ہڑتال ‘پر بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی حکومت سے اپنے وعدے کا احترام کرنے اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔نریندرنے بتایاکہ یہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ ہر طرح سے ریاست کی حمایت کریں کیونکہ غیر معقول تقسیم کی وجہ سے اس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔