پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ،29جنوری سے 19اضلاع میں تحریک متوقع
چنڈی گڑھ،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)اکھل بھارتیہ جاٹ آرکشن سنگھرش سمیتی کی طرف سے29جنوری سے ریاست میں تحریک کی وارننگ دئے جانے کے بعد ریاستی حکومت مکمل طور پر محتاط ہو گئی ہے،جس کی وجہ سے ریاستی حکومت نے مرکز سے مدد مانگ لی ہے۔گزشتہ سال ہوئے ریزرویشن کے تشدد سے سبق لیتے ہوئے ہریانہ حکومت اس بار کسی طرح کا خطرہ لینے کے موڈ نہیں ہے،جاٹوں کے ایک دھڑے نے29جنوری سے ریاست کے19اضلاع میں دھرنوں کا انتباہ دے رکھاہے۔اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہریانہ حکومت پہلے ہی ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے تاکہ کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ ریاست میں نہ ہو۔ہریانہ حکومت اب تک جہاں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اورایڈیشنل پولیس انسپکٹر کو میدان میں اتار چکی ہے وہیں آج محکمہ داخلہ کے اعلی حکام نے میدان سے مل رہی رپورٹ کی بنیاد پرفورا کارروائی کرتے ہوئے مرکز سے نیم فوجی فورسز کی 55کمپنیاں مانگ لی ہیں۔ہریانہ حکومت نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اس تحریک سے نمٹنے کے لئے قریب 700ہوم گارڈ جوانوں کو بھی سیکورٹی کے نظام میں لگاتے ہوئے آئندہ احکامات تک چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔چنڈی گڑھ میں واقع سیکرٹریٹ میں پل پل کی معلومات لینے کے لئے محکمہ داخلہ اور محکمہ پولیس کے اعلی افسران اضلاع میں تعینات پولیس اور سول انتظامیہ کے افسران کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جڑے رہیں گے۔ہریانہ کے داخلہ سکریٹری رامنواس کے مطابق حکومت کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔احتیاط کے طور پر مرکز سے نیم فوجی فورس مانگ لی گئی ہے۔ریاستی حکومت جاٹ برادری کی تمام تنظیموں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے،وہ جب چاہیں بات چیت کے ذریعے اس تنازعہ کونمٹانے کے لئے تیار ہیں۔