ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جاٹ اور پٹیل سماج کی طرح آندولن کی دھمکی مذاق نہیں:نظرعالم

جاٹ اور پٹیل سماج کی طرح آندولن کی دھمکی مذاق نہیں:نظرعالم

Mon, 29 Aug 2016 18:11:31    S.O. News Service

اُردو/بنگلہ ٹی ای ٹی والوں کے ساتھ لگاتار کی جارہی نا انصافی بند کرے نتیش حکومت

دربھنگہ29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آج مورخہ ۲۹؍اگست کو آل انڈیامسلم بیداری کارواں کے دفتر لال باغ، دربھنگہ میں ایک اہم بیٹھک بلائی گئی۔ بیٹھک کی صدارت کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے کی۔ بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے جناب نظرعالم نے ریاستی حکومت پرسیدھاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب سے ان کی نئی حکومت بنی ہے اوراشوک چودھری کو وزیرتعلیم بنایا گیا ہے تب سے بہارمیں تعلیم کا معیار پوری طرح ختم ہوتا جارہا ہے۔ وزیرتعلیم خود کو راہل گاندھی کا قریبی بتاکر عظیم اتحاد کی سرکار کو دھونس میں لیکر اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بھی آر ایس ایس کے ہی اشارے پر مسلمانوں کے ساتھ لگاتار ناانصافی کرتے جارہے ہیں۔ جناب نظرعالم نے آگے کہا کہ اُردو/بنگلہ ٹی ای ٹی والوں کی بحالی کو حکومت نے مذاق بناکر رکھ دیاہے۔کئی سالوں سے آئے دن اُردو /بنگلہ ٹی ای ٹی والوں کو حکومت ٹھگ رہی ہے لیکن بحالی نہیں کررہی ہے جب کہ خودوزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک ہفتہ پہلے سیکڑوں کی تعداد میں سنسکرت اساتذہ کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا عظیم اتحاد کی حکومت کے پاس اقلیتی طبقہ کو نوکری دینے کے لئے پیسہ نہیں رہتا یا ان کوسازش کے تحت بے روزگاربناکرہی رکھنے کی پالیسی ہے۔ وہیں دوسرے فرقہ کے لوگوں کو نوکری دینے کے لئے کبھی بھی حکومت کے پاس روپیہ کی کمی نہیں رہتی ہے۔ آخر ایسا کیوں کیا جارہا ہے اقلیتی طبقہ کے ساتھ۔ کیا انہیں صرف انتخاب کے وقت ہی اقلیتی طبقہ کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے اور کرسی ملتے ہی اقلیتی طبقہ کو اوقات بتادیتے ہیں۔ بیٹھک کو خطاب کرتے ہوئے نظرعالم نے صاف طورپرکہا کہ پچھلے ہفتہ ہی آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت اور وزیرتعلیم اُردو/بنگلہ ٹی ای ٹی والوں کے ساتھ ناانصافی بند نہیں کیا اور اکتوبر ماہ تک بحالی نہیں کی گئی تو اقلیتی طبقہ جاٹ اور پٹیل سماج کی طرح آندولن کرنے پرمجبورہوگا۔حکومت اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں نہ ڈالے اور نہ ہی مذاق سمجھے اگر جلد کوئی ٹھوس اقدام حکومت نے نہیں لیاتونومبرکے پہلے ہفتہ سے آندولن کی شروعات کی جائے گی جس کی ساری جواب دیہی ریاستی حکومت کی ہوگی۔ مسٹر عالم نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جب 27000 کی بحالی نہیں کرنی تھی تو اعلان ہی کیوں کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت بہار کے مکھیا بھی آر ایس ایس ایس کے دباؤ میں ہی کام کررہے ہیں تاکہ مسلمان بڑی تعداد میں بے روزگار رہے اور تعلیم سے بھی دور ہوجائے اور اقلیتی طبقہ صرف ان کے لئے ووٹ بینک بنا رہے۔ مسٹرنظرعالم نے کہاکہ حکومت جلدکارروائی نہیں کرتی ہے تو اُردو آبادی بھی اس کے خلاف آندولن کرے گی۔ بیٹھک کو خطاب کرتے ہوئے مقصود عالم پپوخان، مرزا نہال بیگ،محمدعرش الدین دُلارے، شاہ عماد الدین سرور،وجئے کمار جھا،اسعدرشیدندوی،جاویدکریم ظفر،ہمایون شیخ، قدوس ساگر، سرور علی فیضی، محمدمطیع الرحمن ’موتی‘،زبیرعالم وغیرہ نے بھی کہا کہ حکومت اُردو/بنگلہ ٹی ای ٹی والوں کو جلد روزگار سے جوڑے اور انتخاب کے وقت کئے گئے وعدے کو پورا کرے صرف پٹنہ کے اقلیتی طبقہ تک ہی حکومت کومحدود نہ رکھیں۔


Share: