نئی دہلی، 2؍ستمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر میں بیف بین کے معاملے پر سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا ہے۔مہاراشٹر کی قریشی برادری نے مہاراشٹر میں بیف بین کو چیلنج کیا ہے۔وہیں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے، جوکہ بیف پر مکمل طور پابندی چاہتے ہیں۔درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے یہ نوٹس جاری کیا۔سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ16سال سے بڑی عمر کے بیل کسان کے کسی کام کے نہیں ہوتے ہیں، ایسے میں کسان انہیں فروخت کرکے پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔اس پابندی سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، اس لیے ریاست میں16سال سے اوپر کے بیلوں کو ذبح کرنے کی اجازت دی جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے۔اس سے پہلے بیف بین کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔بامبے ہائی کورٹ کے بیف کھانے کی اجازت کے فیصلے کے خلاف اکھل بھارتیہ کرشی گوسیوا سنگھ کی درخواست پر نوٹس جاری کرکے جواب مانگا گیا تھا۔مہاراشٹر میں جاری بیف بین پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے جولائی میں بیف پر پابندی برقرار رہنے کا فیصلہ دیا تھا، لیکن بیف کھانے پرلگی پابندی کو اٹھاتے ہوئے دیگر ریاستوں سے مہاراشٹر میں بیف لاکر بیچنے کی اجازت دے دی تھی۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریاست میں بیف پر پابندی جاری رہے گی، لیکن دوسری ریاستوں سے (جن ریاستوں میں اس کی اجازت ہے)مہاراشٹر میں بیف لایا جا سکتا ہے اور لوگ بیف کھا بھی سکتے ہیں۔بیف رکھنے والوں کو سارے ثبوت ہمیشہ رکھنے ہوں گے، جس سے کبھی کوئی شکایت آئے تو وہ خود کو بے قصور ثابت کرسکیں۔ایسے میں اس شخص پر قانونی کاروائی نہیں ہو سکتی ہے۔