اعظم گڑھ،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)اعظم گڑھ میں ٹکٹ کے اعلان سے پہلے ہی بی جے پی میں بغاوت ہوگئی ہے۔پارٹی کے سابق ممبرپارلیمنٹ رماکانت یادونے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کی بات توسرے سے مستردکر دی لیکن بی جے پی میں ہو رہی نظر اندازی کو کھل کربیان کیا۔رماکانت یادو نے صاف کیاکہ ٹکٹوں کی تقسیم میں ان کو نظر انداز کیاگیا ہے اور وہ تین سیٹوں پراپنے آزادامیدوار اتارنے جا رہے ہیں۔رماکانت کے باغی ہونے کا مطلب ہے کہ اعظم گڑھ میں بی جے پی کی لٹیا ڈوبنا۔شروع سے یہ بحث بھی رہی ہے کہ اگر رماکانت یادو صدر سے اترتے ہیں تو پارٹی کا کھاتہ کھل جائے گا۔آزادی کے بعد جتنے بھی اسمبلی انتخابات ہوئے ہے بی جے پی اس ضلع میں کچھ خاص نہیں کر پائی ہے۔سال 1991کی رام لہر میں محفوظ سیٹ سرائے میر اور میہن گر پارٹی جیتنے میں ضرور کامیاب رہی تھی لیکن ہار جیت کا فرق معمولی تھا۔اس کے بعد سال 1996کے انتخابات میں بی جے پی کو لال گنج سیٹ ملی تھی،اس کے بعد بی جے پی یہاں کھاتہ نہیں کھول پائی ہے۔لوک سبھا انتخابات میں رماکانت یادو ہی تھے جنہوں نے سال 2009میں کمل کھلا کر صدر سیٹ پر تاریخ رقم کی تھی۔اسمبلی میں تو کئی سیٹوں پر بی جے پی کے لوگ اپنی ضمانت بھی نہیں بچا پاتے ہیں،یا یوں کہیں کہ یہاں بی جے پی کی حالت بالکل کانگریس جیسی ہے،ہر امیدوار کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کیا ہونے والا ہے۔رماکانت کی بغاوت کے بعد پارٹی کے لئے اچھی کارکردگی کرنا مشکل ہوگا۔بتا دیں کہ رماکانت یادو کو پوروانچل کے یادو اپنا لیڈر مانتے ہیں اور اس کا ثبوت لوک سبھا انتخابات میں دیکھنے کو ملا تھا جب ملائم سنگھ یادو کے لئے اعظم گڑھ سیٹ جیتنے میں مشکل کھڑی ہو گئی تھی۔