پٹنہ،9 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا ) بہارمیں80 سے زائد ریلوے اسٹیشنوں پر 6 ماہ کے جامع تجزیہ کی بنیاد پر جاریRailYatri.in کی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اس ریاست میں اوسط ٹرین تاخیر میں جنوری 2016 سے تقریبا 35 فیصد تک کی کمی آئی ہے۔ حالانکہ تجزیہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جون 2016 کے آخر تک اوسط ٹرین تاخیر انڈیکس (ایوریج ٹرین ڈیلے انڈیکس) اب بھی 61 منٹ کے اعلیٰ سطح پرہے۔اس مطالعہ میں ہر ماہ ملک کے مختلف اسٹیشنوں پر ٹرینوں میں چڑھنے والے ریل مسافروں کی باتوں کی بنیادپر، ایک ملین ٹرینوں کی چلنے کی صورت حال کے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا تھا۔ RailYatri.in کے ذریعہ ٹرین ڈیلے انڈیکس (ٹرین تاخیر انڈیکس) کا تعین ایک اسٹیشن پر ٹرین پہنچنے کے صحیح وقت کے بعد مسافر کے ذریعہ ٹرین آنے کے انتظارمیں گزارے گئے وقت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی ریل سمیت پوری دنیا میں ٹرین تاخیر انڈیکس کے دنیا بھر کے آپریشنل تعین میں صرف آخری منزل اسٹیشن پر پہنچنے میں ہونے والی تاخیر پر غور کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی ٹرین درمیان اسٹیشنوں پر دیر سے پہنچنے کے باوجود آخری اسٹیشن پر صحیح وقت پر پہنچ جاتی ہے تو ساری فاصلے کو صحیح وقت مان لیاجاتا ہے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرینوں کو حتمی روکنے کے ٹھیک پہلے یا بالکل قریب والے اسٹیشن کے پہلے اضافی محفوظ وقت اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ وہ صحیح وقت پر فاصلہ طے کر سکیں۔ لیکن RailYatri.in کے مطالعہ میں درمیان کے ان تمام اسٹیشنوں پر تاخیر پر غور کیا گیا ہے جہاں مسافروں کے چڑھنے کے لئے ٹرین کا جمود تھا۔RailYatri.in کے سی ای اواورشریک بانی، منیش راٹھی کا کہنا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ تاخیر کے حساب کے لئے تمام ٹھہراؤ پر تاخیر پر غور کرنا زیادہ عملی ہے کیونکہ اس سے مسافر براہ راست طور پر متاثر ہوتے ہیں اور ٹرین میں ہونے والے تاخیر کے بارے میں ان کے خیالات کی جانکاری ملتی ہے۔ ہمارے مطالعہ میں ان بدنام ٹرینوں کی بھی نشاندہی ہے جنہوں نے ان اسٹیشنوں پر پہنچنے میں سب سے زیادہ تاخیرکیا۔سال 2016 کی پہلی ششماہی میں تاخیر کے رجحان کے تعین کیلئےRailYatri.in نے بہار کے تقریباََ80ریلوے اسٹیشنوں پر تاخیر کا تجزیہ کیا ہے۔