بھٹکل 10/ جولائی (ایس او نیوز) شمالی کینرا کے ساحلی علاقے میں فور لین توسیعی منصوبے کے تعمیراتی کام کی وجہ سے نیشنل ہائی وے 66 کی جو درگت ہوئی ہے اس پر ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے حالانکہ ٹھیکیدار کمپنی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے افسران کو دو تین دن قبل آڑے ہاتھوں لیاتھااور تعمیری کام مکمل کیے بغیر ٹول وصولی نہ کرنے کی ہدایت دی تھی مگر ٹول وصولی بند کرنے کا کام اتنی آسانی سے ہوتا نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا(این ایچ اے آئی) اور ٹھیکےدار کمپنی آئی آر بی نے ضلع انچارج وزیر کی ہدایت کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی اور اسے بالکل نظر انداز کرتے ہوئے ٹول وصولی کا سلسلہ پوری طرح بحال رکھا ہے ۔
اگر وزیر کی ہدایت پر عمل ہونا ہے اور ٹول وصولی کرنی ہے تو پھر قانونی طور پر این ایچ اے آئی کی طرف سے اس سے قبل جو ٹول وصولی کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا اسے منسوخ کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کرنا ہوگا۔ اور اس میں بھی ایک دقت یہ ہے کہ اگر این ایچ اے آئی اب ٹول وصولی بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کرتی ہے تو پھر اس کےخلاف آئی آر بی کمپنی اپیل بھی کر سکتی ہے۔ کیونکہ قاعدے کے مطابق 75فیصد تعمیری کام مکمل ہونے پر ٹھیکیدار کمپنی اپنی طرف سے لگائی گئی سرمایہ کی رقم وصول کرنے کے لئے ٹول وصولی کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔ لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ صحیح ڈھنگ سے تعمیری کام مکمل نہ ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھاریٹی نے ٹھیکیدار کمپنی کو من مانے طریقے سے ٹول وصول کرنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں این ایچ اے آئی کے افسران اور ٹھیکیدار کمپنی کی ملی بھگت ہے جس کے تحت غیر قانونی طور پر عوام کو لوٹا جارہا ہے ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے بھی ایک میٹنگ کے دوران نیشنل ہائی وے اتھاریٹی اور آئی آر بی کمپنی کے افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے توسیعی منصوبے کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور کسی بھی قسم کا حادثہ پیش آنے کی صورت میں این ایچ اے آئی اور آئی آر بی پر ایف آئی آر درج کرنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ اس کے علاوہ حالیہ میٹنگ کے دوران کاروار- انکولہ رکن اسمبلی ستیش سیئل نے بھی ہائی وے کے تعمیری کام کے سلسلے میں سخت اعتراضات کیے تھے ۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ رکن پارلیمان، ضلع انچارج وزیر اور رکن اسمبلی ایک ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے پر ایک مشترکہ اور موثر طریقہ کار اپنائیں اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی اور ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کو سخت انتباہ دینے کا کام کریں تبھی ٹول کو بند کیا جاسکتا ہے اور فورلین ہائی وے کا کام بھی پائیدار ہوسکتاہے۔