بھٹکل 19 / جون (ایس او نیوز) شہر کے کوکتی علاقے میں منگل کو زیر زمین گٹر کے مین ہول سے جانوروں کے ذبیحہ کا خون ملا ہوا پانی رسنے پر علاقے میں کچھ دیر کے لئے کشیدگی پیدا ہوئی جس پر مقامی عوام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔
چونکہ خون آلودہ پانی غیر مسلموں کے لئے اہم سمجھے جانے والے کوکتی تالاب کے پانی میں بھی شامل ہوگیا تھا اس وجہ سے یہ مقامی طور پر تناو بھری ناراضگی کا سبب بن گیا ۔
خیال رہے کہ کوکتی علاقے میں پہلی بار انڈر گراونڈ ڈرینیج کا کام شروع کیا گیا ہے اور ابھی یہ کام چل رہا ہے ۔ سمجھا جا رہا ہے کہ اس دوران کسی نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد خون کو زیر زمین گٹر کے نالے میں بہا دیا جو بعد میں قریب میں واقع کوگتی تالاب کے پانی میں شامل ہونے لگا۔
معاملے کی خبر جب ٹی ایم سی اور محکمہ پولیس کے افسران کو پہنچی تو اہلکاران موقع پر پہنچ گئے اور معائنہ کیا ۔ عوام کی شکایت اور ناراضگی کو دیکھتے ہوئے انڈر گراونڈ ڈرینیج کے چیمبر میں جمع شدہ خون آلودہ پانی کو پمپ کے ذریعے باہر نکالنے کا اقدام کیا گیا ۔
اس موقع پر متعلقہ علاقہ کے غیر مسلم برادران کے ساتھ بعض سنگھ پریوار کے لیڈران بھی جائے وقوع پر جمع ہوکر نئے زیر زمین ڈرینیج سسٹم میں جانوروں کا خون بہانے کے تعلق سے جانچ اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
واضح رہے کہ قربانی کے موقعوں پر مسلمان اپنے کمپاونڈ میں ہی بڑا گڈھا کھود کر جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد خون کو گڈھے میں ہی دفن کرنے کا انتظام کرتے ہیں ، جبکہ جانوروں کی ہڈیاں، اُوجھڑی وغیرہ کے لئے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی سرپرستی میں مقامی نوجوانوں کی ایک ٹیم سرگرم رہ کر کام کرتی ہے۔ ایسے میں قربانی کے جانوروں کا مقدس خون گٹر کے نالے میں بہائے جانے کو لے کر مسلمانوں میں بھی ناراضگی پائی جارہی ہے۔