نئی دہلی، 7/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بلند شہر مبینہ ’لوجہاد‘ معاملے میں اب نیا موڑ آ گیا ہے۔لڑکی نے بھگانے والے لڑکے پر عصمت دری کا الزام لگادیا ہے، جس کے بعد پولیس نے لڑکے کو عصمت دری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔دراصل پولیس نے غائب ہوئی لڑکی کا پتہ لگایا اور اس کو کورٹ لے گئی۔عدالت میں لڑکی نے بیان دیا کہ ملزم یوسف نے وجے بن کر اس کو دھوکہ دیا اور بہلا پھسلا کر لے گیا اور اس کے ساتھ عصمت دری کی، لڑکی کے بیان کے بعد پولیس نے عصمت دری کا معاملہ درج کرکے ملزم یوسف کو جیل بھیج دیا ہے۔غورطلب ہے کہ اسی معاملے میں ہندو یواواہنی کے کارکنوں پر لڑکے کے رشتہ دار کو پیٹ پیٹ کر مار دینے کا الزام لگا تھا۔اس واقعہ سے پہلے ایک ہندو لڑکی کے خاندان والوں نے الزام لگایا تھا کہ گاؤں کا ایک مسلمان لڑکا ان کی لڑکی کو بھگا کر لے گیا تھا۔متوفی غلام احمد کے خاندان کا الزام ہے کہ ہندو یواواہنی کے کارکنوں نے ان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیاہے۔بتایا جا رہا ہے کہ کچھ دنوں پہلے غلام احمد کے پڑوس میں رہنے والا ایک مسلم نوجوان ہندو لڑکی کے ساتھ بھاگ گیا تھا، اس لیے لڑکی کے رشتہ دار مسلسل سوہی گاؤں میں آکر مسلم خاندانوں پر لڑکی کو برآمد کرنے کا دباؤ بنا رہے تھے۔پولیس کے مطابق، کل 8 لوگ اس واردات میں شامل ہیں،جن میں سے تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گاؤں میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس فورس تعینات کردیا گیا ہے، اس کے باوجود متاثرہ خاندان میں خوف کا ماحول ہے۔غورطلب ہے کہ 2002میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندو یواواہنی کا قیام کیا تھا، اسے ایک ثقافتی تنظیم بتایا گیا تھا،لیکن اس تنظیم کا یوگی کو سیاسی فائدہ بھی ملا، یوگی آدتیہ ناتھ کو الیکشن میں بھاری ووٹوں سے جیت ملنے لگی اور تنظیم کی وجہ سے یوگی اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب رہے، حالانکہ ہندو یوا واہنی مسلسل تنازعات میں بھی رہی ہے۔اس تنظیم سے وابستہ لوگوں کے خلاف کئی مقدمے درج ہوئے۔