نئی دہلی،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)نریندر مودی حکومت کے آنے کے بعد سے مسلسل اس بابت امیدیں ہوتی رہیں کہ انکم ٹیکس ( ٹیکس)میں رعایت کے لیے حکومت اقدامات کرے ۔گزشتہ مالی سال میں پیش کئے گئے بجٹ میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا لیکن اشارہ ضروردیاگیاتھا۔آئندہ مرکزی بجٹ 2017کو لے کر بھی ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت انکم ٹیکس کی چھوٹ جوکہ اب ڈھائی لاکھ روپے ہے، کو بڑھا کر تین سے ساڑھے تین لاکھ روپے کر سکتی ہے۔اسی کڑی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا(ایس بی آئی)کی تحقیقی رپورٹ ’’ایکوریپ‘‘آئی ہے جس کے مطابق حکومت نوٹ بندی کے بعد بنے حالات کو دیکھتے ہوئے معیشت کو فروغ دینے کے لئے براہ راست ٹیکس میں وسیع تبدیلی کر سکتی ہے۔اس سمت میں انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کیا جا سکتا ہے اور بینکوں میں پانچ سال کے ریٹرن کے جمع کے بجائے تین سال کے ریٹرن کی جمع رقم پر ٹیکس چھوٹ دی جا سکتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق آئندہ بجٹ میں ذاتی انکم ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھ سکتی ہے۔انکم ٹیکس کی دفعہ 80Cکے تحت مختلف سرمایہ کاری اور بچت پر ملنے والی چھوٹ کی حد بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔گھرلون کے سود پر بھی ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھا کر دو لاکھ سے بڑھ کر تین لاکھ روپے کی جا سکتی ہے۔دفعہ 80Cکے تحت مختلف بچت اور سرمایہ کاری پر ملنے والی ٹیکس چھوٹ کی حد 1.5لاکھ سے بڑھ کر دو لاکھ روپے کی جا سکتی ہے۔