نئی دہلی، 27؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد(اے بی وی پی) کی جے این یوشاخ کے نائب صدر جتن گورایا نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے کہ وہ دلتوں کے خلاف حملوں پر اے بی وی پی کے رخ سے اکتاہٹ محسوس کررہے ہیں۔گورایا بی جے پی کی طلبا شاخ کے ایسے چوتھے رکن ہیں جنہوں نے اس سال اختلافات کی وجہ سے پارٹی سے استعفی دے دیا۔9 ؍فروری کو جے این یو کیمپس میں مبینہ ہندوستان مخالف نعرے بازی کے واقعہ کے بعد فروری میں اے بی وی پی جے این یو شاخ کے سابق جوائنٹ سکریٹری پردیپ نروال اور 2 دیگرعہدیداروں نے بھی استعفی دے دیا تھا۔منو اسمرتی میں دلت اور خواتین مخالف اصولوں کے خلاف چند ماہ قبل یونیورسٹی کیمپس میں ہوئے مظاہرے کے دوران کچھ طلبا نے ہندوؤں کے اس مقدس گرنتھ کے صفحات جلائے تھے جس میں گورایا بھی شامل تھے۔انہوں نے کہاکہ میں نے اے بی وی پی کے نائب صدر عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور خود کو نسل پرست، مضحکہ خیز اور مرد کے غلبہ والی تنظیم سے الگ کرتا ہوں۔اے بی وی پی کا طرز عمل اس کے جوڑتوڑ والے فاشسٹ اور قدامت پسند چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔اپنے استعفی نامہ میں انہوں نے دعوی کیاکہ روہت ویمو لا کا ادارہ جاتی قتل اور 9 ؍فروری کو ہوئے جے این یو واقعہ سے لے کر او نا میں دلتوں کے وقار اور سماجی انصاف پر سوال کے سلسلے میں بڑھتے واقعات پر انہوں نے الگ موقف اختیار کیا ہے۔اب یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ اے بی وی پی نے فرضی قوم پرستی، قوم پرست مخالف بیان بازی کرکے اور اپنے اختلافات کو اجاگر کرکے اور ہم پر قوم پرستی کا اپنا نفرت آمیز نظریہ تھوپ کر ہمارے اپنے ادارے پر کلنک لگایا ہے۔