نئی دہلی، 30؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال نے ایک بارپھروزیراعظم مودی پر حملہ بولتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ دہلی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔یہ ردعمل لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے آج کے فیصلے کے بعد آیا ہے۔دراصل، لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے دہلی حکومت کے ہیلتھ سکریٹری ترون سین اورپی ڈبلیو ڈی سکریٹری سروشتھ شریواستو کو ہٹا دیا ہے۔ان کی جگہ چندراکر بھارتی کو ہیلتھ سکریٹری اور اشونی کمار کوپی ڈبلیو ڈی سکریٹری مقرر کیا گیا۔قابل ذکر ہے کہ 12؍اگست کو نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ایل جی جنگ سے ملاقا ت کرکے درخواست کی تھی کہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے بعد سارے حقوق ایل جی کے پاس ہیں اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اسکول تعمیر اور فلائی اوور کے کام میں لگے پی ڈبلیو ڈی سکریٹری اور محلہ کلینک کے کام میں لگے ہیلتھ سکریٹری کو نہ ہٹایا جائے، لیکن اس درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے ان دونوں کو ہٹادیا گیا ہے۔ایک اور ٹوئٹ میں کیجریوال نے کہا کہ وزیر تعلیم منیش سسودیا ایل جی نجیب جنگ کے پیروں میں پڑے کہ محلہ کلینک اور اسکولوں کی تعمیر کے سکریٹریوں کو31؍مارچ تک نہ ہٹایا جائے ، لیکن لیفٹیننٹ گورنرنے ان کی درخواست کو نہیں مانا ۔ایک اور ٹوئٹ میں وزیر اعلی کیجریوال نے کہاکہ آج لیفٹیننٹ گورنر نے کچھ حکام کا سیدھا تبادلہ کر دیا ہے ۔تبادلہ کو لے کر متعلقہ محکموں کے وزراء سے بات چیت کرنابھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔کیا یہی جمہوریت کا مودی ماڈل ہے؟