نئی دہلی، 14؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )سماج وادی پارٹی میں زبردست اندرونی اختلافات سامنے آنے اور اتر پردیش کے وزیر اعلی کی صفائی پر شدید حملہ کرتے ہوئے بی جے پی نے آج کہا کہ یہ پوری قواعد ریاست میں جرائم اور بدعنوانی جیسے اہم مسئلے سے عوام کی توجہ بانٹنے کا ہائی وولٹیج ڈرامہ ہے اور عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئے گی اور اس نے بی جے پی کے حق میں تبدیلی کا مزاج بنا لیا ہے۔بی جے پی کے قومی سکریٹری سری کانت شرما نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو کی قیادت میں یہ حکومت اور ان کا خاندان بدعنوانی اور جرائم کو فروغ دیتا رہا اور ریاست کو لوٹتا رہا۔حکومت کے تحفظ میں کان کنی اور زمین مافیا اور جرائم پیشہ افراد بڑھتے رہے۔انہوں نے کہا کہ جواہر باغ کے معاملے میں آٹھ ماہ پہلے خفیہ معلومات تھی، لیکن پھر بھی رامورکش یادو پھلتا پھولتا رہااور اس کے بعد کارروائی میں ہمارے پولیس افسران اور جوانوں کو جان گنوانی پڑی۔بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت مکل دویدی، سنتوش یادو جیسے پولیس افسران کے قتل کے لیے مجرم حکومت ہے اور اس حکومت کو بے گناہ پولیس حکام کے خاندان والوں کی بددعا لگ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی ایس پی حکومت آئی سی یو میں ہے اور آخری سانس لے رہی ہے۔سری کانت شرما نے کہا کہ عدالت کی مداخلت کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو آنا فانا میں کچھ وزراء کو ہٹانے کا دعوی کر رہے ہیں۔اگر وہ اس معاملے میں سنجیدہ تھے تو دو سال پہلے جب لوک آیکت نے گایتری پرجاپتی کو برخاست کرنے اور مقدمہ چلانے کی بات کہی تھی ، تب انہوں نے کیوں کارروائی نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت کے تلخ تبصرے کے بعد آنا فانا میں کارروائی کی گئی ،جو محض دکھاوا ہے۔بی جے پی لیڈر نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو کی آج وہی صورت حال ہے، جو این ایچ آر ایم گھوٹالہ کے وقت 2012میں مایاوتی کی تھی۔لوگوں نے اس وقت مایاوتی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا کام کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی ایس پی حکومت ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے اور آخری وقت میں کسی طرح کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے، عوام سمجھ گئی ہے اور بی جے پی کے حق میں تبدیلی کا مزاج بنا چکی ہے۔