نئی دہلی، 11/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے چیف سنجے مشرا کی مدت کار میں تیسری توسیع کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر سبکدوش کرنے کا حکم دیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سنجے مشرا کی مدت کار اب31جولائی تک ہی رہے گی۔ مرکزی حکومت ۱۵؍ دن میں ای ڈی کے نئے ڈائریکٹر کی تقرری کر سکتی ہے۔ دراصل مرکزی حکومت نے لگاتار تیسری بار سنجے مشرا کی مدت کار کو بڑھا دیا تھا۔ حکومت کی تقرری کے مطابق سنجے مشرا 18 نومبر کو سبکدوش ہوتے لیکن اب عدالتی فیصلہ کے بعد وہ اس عہدہ پر31 جولائی تک ہی رہ پائیں گے۔ حکومت کی طرف سے ای ڈی ڈائریکٹر کی مدت کار کو بڑھائے جانے پر جسٹس وکرم ناتھ ، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سنجے کرول کی بنچ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ قانون بنانے کی طاقت اور اختیار حکومت کے پاس ہے لیکن ای ڈی چیف کی مدت کار میں یہ توسیع بالکل ناجائز ہے ۔اسی لئے ہم ہدایت جاری کررہے ہیں کہ انہیں 31 جولائی تک ہر حال میں ریٹائر کردیا جائے ۔
یاد رہے مودی حکومت نے سنجے مشرا کو گزشتہ سال نومبر میں جب دوسری توسیع دی تھی تب جسٹس گوائی کی قیادت والی بنچ نے اسے روکا نہیں تھا لیکن حکومت پر یہ واضح کردیا تھا کہ اہم عہدوں پر تقرری میں توسیع بہت سوچ سمجھ کر دی جانی چاہئے اور ان افسران پر بالکل بھی غور نہیں ہونا چاہئے جو ریٹائر ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے سنجے مشرا کو پہلی مرتبہ 18نومبر2018ءکو ای ڈی کا ڈائریکٹر بنایا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے درمیان میں ایک ایک سال کے لئےان کی مدت کار میں مزید توسیع کر دی تھی۔
مشرا کی لگاتار تیسری بار توسیع کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں عرضی داخل کی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ہی حکومت سے جواب طلب کردیا تھا اور اس معاملے میں سماعت کے بعد8 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ یاد رہے کہ سنجے مشرا انکم ٹیکس محکمہ سے ای ڈی میں لائے گئے تھے۔ انہوں نے این ڈی ٹی وی کے خلاف ٹیکس چوری کا مقدمہ تیار کیا تھا ۔ اس کے علاوہ کانگریس کے اعلیٰ لیڈران کی ملکیت والی ینگ انڈیا کمپنی جو نیشنل ہیرالڈ کی مالک ہے ، کے خلاف بھی ٹیکس اور اس سے متعلق متعدد بدنظمی کا الزام لگاکر کیس تیار کیا تھا ۔ ان دنوں کیسیز کی تیاری کے بعد ہی انہیں مرکزی حکومت نے ای ڈی میں لاکر اس کا ڈائریکٹر بنادیا تھا ۔ اس کےبعد سے ہی ای ڈی کی کارروائیاں شروع ہوئیں جو ۹۵؍ فیصد معاملات میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ہی رہی۔ اسی وجہ سے اپوزیشن لیڈران یہ الزام لگاتے ہیں کہ ای ڈی کا مقصد صرف اپوزیشن کو نشانہ بنایا ہے۔