نئی دہلی،15؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ملائم خاندان کا اختلاف اب تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ملائم سنگھ یادو اب اپنے وزیر اعلی بیٹے اکھلیش یادو کو منانے خود دہلی سے لکھنؤ کے لیے نکل چکے ہیں۔خاندان میں چل رہے اختلاف پر رام گوپال یادو نے بھی آج مہر لگا دی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلی کو صدر کے عہدے سے ہٹانا قیادت کی غلطی رہی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سے کہہ دیتے کہ استعفی دے دیں ، تو شاید یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیو پال یادو سے چھینی گئی تین وزارتیں انہیں لوٹانے یا گایتری پرجاپتی اور راج کشور سنگھ کو دوبارہ وزیر بنانے کے لیے اکھلیش یادو اب تیار نہیں ہیں۔خبر ہے کہ ملائم سنگھ یادو 17؍ستمبر سے پہلے اکھلیش یادو سے ملاقات کر سکتے ہیں۔17؍تاریخ کو ملائم کے گھر پر دعوت کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس دعوت میں صرف یادو خاندان کے لوگ ہی شریک ہوں گے۔اسی درمیان، شیو پال یادو نے کہا کہ مجھے یوپی کا صدر نیتا جی نے بنایا ہے اور اکھلیش کو انہی نے ہٹا دیا ہے۔2017میں ہمیں حکومت بنانی ہے، مجھ پر تنظیم کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری ہے، نیتا جی جو ذمہ داری دیں گے، وہ میں نبھاؤں گا، اس کے ساتھ ہی شیو پال نے کہا کہ امر سنگھ کو ملائم ہی لائے تھے۔انہوں نے لکھنؤ میں کہا کہ سب لوگوں کو نیتا جی کا جو بھی حکم ہوگا اس سے ماننا ہے۔نیتا جی جہاں پر بھی ذمہ داری دیں گے، وہ سب کو نبھانی ہے۔نیتا جی کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔2011میں میں ریاستی صدر تھا اس وقت بھی اسی طرح مجھے اس ذمہ داری سے ہٹا کر اکھلیش کو عہدہ دیا گیا تھا۔نیتا جی نے تو سوچ سمجھ کر ہی بنایا ہو گا ، آخری فیصلہ انہی کا ہوگا۔وہیں سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے صحافیوں سے کہا کہ خاندان میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اگر کوئی تنازعہ ہے تو وہ دور ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلی خود فیصلے لیتے ہیں، تو وہ غیر فطری نہیں۔تھوڑی سے غلط فہمی ہوئی ۔میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے رام گوپال یادو نے کہا کہ کچھ لوگ نیتا جی کی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایسے لوگ جن کو پارٹی کے مفاد سے کوئی لگاؤ نہیں، ایسے لوگ پارٹی کو نقصان پہنچاتے ہیں، نیتا جی کی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔کل یہی بات اکھلیش یادو نے بالواسطہ طور پر کہی تھی ۔
یادو خاندان میں مبینہ اختلاف سے پارٹی کا نقصان ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کا وقت ہے اور ہر وقت مداخلت وزیر اعلی تھوڑے ہی برداشت کریں گے۔حالانکہ انہوں نے کہاکہ اکھلیش کسی سے ناراض نہیں ہیں۔ایکشن کہیں سے شروع ہوتا ہے، تو کہیں سے ری ایکشن ضرورت ہوتا ہے، ایسا فطری ہے۔رام گوپال یادو نے کہا کہ اکھلیش اور ملائم سنگھ یادو کی جلد بات چیت ہونے کا امکان ہے، جس کا انتظار ہے۔آخری فیصلہ ملائم سنگھ یادو کو ہی لینا ہے۔زیادہ تر فیصلے نیتا جی کی رائے سے ہی ہوتے ہیں۔ادھر اکھلیش یادو کی طرف سے حال ہی میں کابینہ وزراء گایتری پرجاپتی اور راج کشور کو برخاست کئے جانے کے معاملے پر رام گوپال نے یہ بھی کہا کہ اگر میں وزیر اعلی ہوتا تو راج کشور کو نہیں نکالتا۔اس سے پہلے رام گوپال یادو نے کہا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ کچھ فیصلے ہو جاتے ہیں، جس سے لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی میں کوئی دقت ہے۔ایسا سبھی پارٹیوں میں کسی نہ کسی صورت حال کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔وزیر اعلی اکھلیش یادو نے جو بھی فیصلے لئے، زیادہ تر پارٹی صدر کے کہنے پر لئے اور کچھ فیصلے، جیسا کہ انہوں نے کہا، خود لئے ہیں ۔اتر پردیش جیسی ریاست کا وزیر اعلی اگر کوئی فیصلے اپنی طرف سے لیتا ہے ، تو کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔کسی معمولی نکتہ پر اگر کوئی فرق ہو جاتا ہے تو اس کا حل بھی ہو جاتا ہے۔سیدھی سی بات ہے کہ وزیر اعلی کو جب پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، تو قیادت سے تھوڑی سے جان بوجھ کر نہ سہی، لیکن اتنی غلطی ہوگئی کہ اگر ان سے استعفی مانگ لیتے تو وہ استعفی دے ہی دیتے، اس سے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا ۔اس چکر میں تھوڑی سے غلط فہمی ہوئی اور کوئی بات نہیں۔شیو پال یادو کے محکمہ انہیں واپس دئے جائیں گے یا نہیں، اس مسئلے پر ابھی اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وزیر اعلی سے ملاقات نہیں ہوئی ہے، لیکن بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ادھر اہم وزارت چھینے جانے کے بعد سے ناراض چل رہے یوپی کے وزیر شیو پال یادو کا کہنا ہے کہ پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو ہی ان کے لیڈر ہیں اور وہ ان کا کہنا مانیں گے۔شیو پال نے یہ بھی کہا کہ سماج وادی پارٹی میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور پارٹی اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مل کر الیکشن لڑے گی۔