نئی دہلی، 12/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ 2اگست سے روزانہ کی بنیاد پر ان درخواستوں پر سماعت کرے گا جس میں جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چڈ ،جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل آئینی بنچ نے منگل کو یہ حکم سنایا۔آئینی بنچ 2 اگست صبح میں سماعت شروع کرے گی اور یہ روزانہ کی بنیاد پر ہو گی لیکن اس میں پیر اور جمعہ شامل نہیں ہو گی۔ یعنی ہفتے میں 3دن روزانہ سماعت ہو گی۔بنچ نے قبل ازیں تمام فریقوں کو27جولائی تک متعلقہ دستاویزات داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یاد رہے کہ تقریباً ۴؍سال قبل 5 اگست2019ءکو مرکزی حکومت نے آئین کی دفعہ دفعہ370کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد ریاست کو مرکز کے زیر انتظام ۲؍ خطوں لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت کا موقف پیش کیا۔ عدالت نے ان کے اس عرضی کا بھی نوٹس لیا کہ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن کے بعد جموںکشمیر کی بدلی ہوئی صورتحال پر 10جولائی کو ایک اضافی حلف نامہ کے ذریعے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ہے۔سالیسٹر جنرل نے کہا کہ آرٹیکل کی منسوخی کے بعد ریاست میں موجودہ صورتحال پر کسی بھی طرف سے پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
ادھرآئینی بنچ کے سامنے ایک پارٹی کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عرض کیا کہ حلف نامہ کو میڈیا نے بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا ہے اس لئے اسے قبول نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ مرکز کے حلف نامہ کا آئینی سوالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے آئینی بنچ کو بتایا کہ آئی اے ایس افسر شاہ فیصل اور سماجی کارکن شہلا رشید نے اپنی درخواستیں واپس لے لی ہیں۔اس کے بعد کچھ درخواست گزاروں نے اس معاملے کو۷؍ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے بھیجنے کی درخواست کی تھی لیکن بنچ نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ میں مرکز کےنئے حلف نامہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر میںتین دہائیوں کی بدامنی اورآرٹیکل 370کے تحت سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو واپس لینے کے بعد جموں کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہو گئے ہیں۔مرکز نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ مئ2023 میں سری نگر میںجی ٹوینٹی ٹورزم ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی میزبانی وادی کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ سیاحتی شعبے اور ملک نے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ایک علاحدگی پسند یا دہشت گردی سے متاثر ہ خطے میں بین الاقوامی معززین کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے اور عالمی تقریبات کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔گزشتہ تین سال میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بغیر کسی ہڑتال کے آرام سے چل رہی ہیں۔ ہڑتال اور بند کا رواج اب ماضی بن چکا ہے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت غیر معمولی ہو گئی ہے۔