نئی دہلی، 5 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش کے امیٹھی میں واقع انڈین انفارمیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ(آئی آئی آئی ٹی )کو بند کئے جانے کو جائزٹھہراتے ہوئے فروغ انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڑیکر نے دعویٰ کیاکہ قانون ایسے ’آف کیمپس سینٹر‘کو منظوری نہیں دیتااوروہاں کی سہولیات سے طالب علم بھی ناخوش تھے۔جاوڑیکر نے راجیہ سبھا کا اجلاس شروع ہونے پر کہا کہ کچھ اراکین نے کل امیٹھی میں واقع آئی آئی آئی ٹی کو بند کئے جانے کا مسئلہ اٹھایا تھا اور وہ اس پر رائے دینا چاہتے ہیں۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر نے کہا کہ امیٹھی میں واقع آئی آئی آئی ٹی کی منظوری 2005میں دی گئی تھی اور یہ 2005-2006میں شروع ہوا تھا۔یہ کل وقتی آئی آئی آئی ٹی تھا لیکن الہ آباد میں آئی آئی آئی ٹی کا ’آف کیمپس‘ہے۔جاوڈیکر نے کہاکہ قانون آئی آئی آئی ٹی کے آف کیمپس مراکز کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہاکہ امیٹھی میں واقع راجیو گاندھی انڈین انفارمیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ تکنیکی طور پر غیر قانونی تھا، اس ادارے میں صرف ایک ہی مستقل ٹیچر تھے اور ایک ٹیچر الہ آباد سے روزامیٹھی آتے تھے۔طالب علم اس سے ناخوش تھے اور چاہتے تھے کہ سبھی اساتذہ وہاں رہیں۔انہوں نے کہا کہ طلبا نے تحریک چلائی اور وہ انسٹی ٹیوٹ کی الہ آباد منتقلی چاہتے تھے۔جاوڈیکر نے کہا کہ آئی آئی ٹی کانپور کی سربراہی میں ایک جائزہ لیا گیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طلبا کوآئی آئی ٹی الہ آباد منتقلی کر دیا جائے۔فروغ انسانی وسائل کے وزیر نے کہاکہ سیاسی بدلہ والی کوئی بات نہیں ہے، طلبا پڑھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ طلبا نے 29؍جولائی کو آئی آئی آئی ٹی الہ آباد فیکلٹی کے اساتذہ کا گھیراؤ کرکے مناسب تعلیم کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ امیٹھی کیمپس میں مستقل فیکلٹی نہیں ہے، انہیں اس استاد کو جواب دیناہوتاتھا جوچار کلاسوں کو پڑھانے کے لیے آئی آئی آئی ٹی ٹی الہ آباد سے آتے تھے ۔