نیویارک،13؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ذرائع نے بتایا کہ امریکی فوجیوں اور ملٹری گاڑیوں کو کیموفلاج کر کے جنوبی مغربی پولینڈ میں پہنچایا جا رہا ہے۔ پولستانی سرزمین پر اُن کی منزل مغربی شہر زاگن ہے اور یہیں امریکی فوج کا بیس ہو گا۔ تقریباً 80ٹینکوں اور کئی بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل یہ دستہ ڈیرے ڈالنے کے بعد کئی ملکوں میں گشت کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔ امریکی فوج کی آمد پر پولینڈ کے وزیر دفاع انتونی میسیروِچ( (Antoni Macierewiczکا کہنا ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد کے دستوں کی تعیناتی سے روس کا خطے میں بڑھتا اثر اختتام پذیر ہو جائے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ پولستانی وزیر دفاع امریکا کے ساتھ دفاعی تعلقات میں فروغ کے متمنی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وسطی یورپ اور خاص طور پر پولینڈ میں روس کی مطلق طاقت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب روس نے پولینڈ میں امریکی فوج کی تعیناتی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی روس کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ روس کی طرف سے کریمیا کو اپنا حصہ بنانے کے بعد امریکی صدر باراک اوباما نے ایک نیٹو مشن کے تحت مشرقی یورپ میں امریکی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ روسی حکومت نے فوج کی تعیناتی پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر بھی تنقید کی ہے۔
پولش شہر زاگن میں گفتگو کرتے ہوئیامریکا کی تھرڈ بریگیڈ کمبیٹ ٹیم کے کمانڈر کرنل آر نوری نے واضح کیا کہ اُن کی تعیناتی کا مقصد خطے میں مزاحمتی عمل کو تقویت دینا اور اگر سلامتی کے خطرات موجود ہیں تو اُن کی شدت کو زائل کرنا ہے۔کسی ممکنہ روسی جارحیت کی شدت کو زائل کرنے کے حوالے سے پولینڈ کی منشا پر امریکی فوجی دستوں کو پولینڈ کی سرزمین پر پہنچایا گیا ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے کسی بھی رکن ملک میں امریکی فوجی دستے پہلی مرتبہ تعینات کیے گئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے تنازعے کی وجہ سے امریکا نے مغربی ملکوں کے ساتھ گزشتہ برس فوجی مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا۔امریکی فوجیوں کی پولینڈ میں آمد سے قبل ہی روس کلینن گراڈ میں جوہری صلاحیت کے حامل اسکانڈر میزائل نصب کر چکا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے ان میزائلوں کی تنصیب کو یورپی سکیورٹی کو غیرمستحکم کرنے کا ایک عمل قرار دیا تھا۔