نئی دہلی، 29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزیر ثقافت مہیش شرما آج اپنے اس بیان کے لئے ایک اور تنازعہ میں گھر گئے جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان آنے والے غیر ملکیوں کوا سکرٹ پہننے سے گریز کرنا چاہئے،بعد میں مجبور ہوکر انہیں وضاحت جاری کرنا پڑا۔شرما نے کہاکہ ان کے تبصرہ مشاورت کی نوعیت کا تھا اور ان سیاحوں کے لیے تھا جو مذہبی مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔آگرہ میں کل نامہ نگاروں سے بات چیت میں انہوں نے کہا تھاکہ اپنی حفاظت کے لئے خواتین غیر ملکی سیاحوں کو چھوٹے کپڑے اور سکرٹ نہیں پہننا چاہئے۔ہندوستانی ثقافت مغربی ثقافت سے مختلف ہے۔اس بیان پر سخت رد عمل آیا ہے۔کانگریس لیڈر منیش تیواری نے اسے سب سے زیادہ شرمناک بیان قرار دیا اور دہلی خواتین کمیشن کی صدر سوات مالیوال نے کہا کہ یہ بیان انتہائی خوفناک اور مایوس کن سوچ کا عکاس ہے۔اپنے بیان کو واضح کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ یہ مختلف ثقافتوں، انفرادی رہن سہن کی عادات اور مختلف تہذیبوں کا ملک ہے جو ہر 100کلو میٹر پر مختلف ہوتا ہے۔مہمان نوازی کی ہماری روایت ہے۔اس طرح کی پابندی ناقابل تصور ہے،میں نے مذہبی مقامات پر جانے کے دوران مشورہ کے طور پر یہ کہا۔ جیسے جب ہم گردوارہ جاتے ہیں تو ہم اپنا سر ڈھک لیتے ہیں، جب ہم مندر جاتے ہیں تو اپنے جوتے اتار لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں(دو)بیٹیوں کا باپ ہوں،میں نے یہ نہیں کہا کہ کسی شخص کو کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں اور نہ ہی مجھے ایسا کہنے کا اختیار ہے،جب وہ مذہبی مقام کا دورہ کرتے ہیں تو میں نے اسے صرف مشاورت کے طور پر کہا۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے بھی شرما پر نشانہ لگایا۔