ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اروند کجریوال کو پھر لگا دھچکا، نچلی عدالت کی دی ہوئی ضمانت پر ہائی کورٹ نے لگائی روک

اروند کجریوال کو پھر لگا دھچکا، نچلی عدالت کی دی ہوئی ضمانت پر ہائی کورٹ نے لگائی روک

Fri, 21 Jun 2024 14:24:06    S.O. News Service

نئی دہلی 21 جون ,(ایس او نیوز): دہلی کی شراب پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعلی اروند کیجریوال کو اس وقت زبردست دھچکا لگا جب کیجریوال کی ضمانت کی درخواست کے خلاف دہلی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے حکم پر روک لگادی۔ 

میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق آج جمعہ دوپہر تک کیجریوال تہاڑ جیل سے باہر نکلنے والے تھے، مگر ہائی کورٹ کی روک کے بعد وہ اس وقت تک رہا نہیں ہوں گے جب تک ہائی کورٹ کیس کی سماعت نہیں کرتا۔

بتایا گیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال کو دی گئی ضمانت کے خلاف ای ڈی کی درخواست پر فوری سماعت کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ نچلی عدالت کا حکم اس وقت تک موثر نہیں ہوگا جب تک ہم اس کیس کی سماعت نہیں کرتے۔ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے ای ڈی نے دلیل دی کہ ہمیں نچلی عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملا۔ 

ای ڈی نے دلیل دی کہ تحقیقات کے اہم مرحلے میں کیجریوال کو رہا کرنے سے تحقیقات متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ کیجریوال وزیر اعلیٰ جیسے اہم عہدے پر فائز ہیں۔ اس پر ہائی کورٹ نے کیجریوال کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی اس دلیل کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ درخواست پر جلد سماعت کی ضرورت نہیں ہے۔ای ڈی کی جانب سے اے ایس جی راجو نے کہا کہ ہمیں اپنا تحریری جواب داخل کرنے کا وقت نہیں دیا گیا۔ یہ غیر منصفانہ ہے۔ ای ڈی نے پی ایم ایل اے کی دفعہ 45 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے سنگھوی کی موجودگی کی بھی مخالفت کی۔

ہائی کورٹ کی جانب سے کیجریوال کی ضمانت پر روک لگانے پر عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے اسے مودی حکومت کی غنڈہ گردی قرار دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم ابھی تک آیا نہیں ہے۔ حکم کی کاپی ابھی ملی بھی نہیں ہے تو پھر مودی کی ای ڈی کس حکم کو چیلنج کرنے ہائی کورٹ پہنچی؟ انہوں نے سوال کیا کہ اس ملک میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ عدالتی نظام کا مذاق کیوں بنایا جارہا ہے؟ انہوں نے وزیراعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی، پورا ملک آپ کو دیکھ رہا ہے۔

درحقیقت، جمعرات کو ہی راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق معاملے میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو ضمانت دے دی تھی۔ ایسے میں کیجریوال جمعہ کو تہاڑ جیل سے باہر آ سکتے تھے، لیکن ہائی کورٹ نے سماعت تک روک لگا دی۔

 اس پورے معاملے میں عآپ کا یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی انتقام کے جذبے سے کیا جا رہا ہے۔ عآپ لیڈر آتشی اور دیگر لیڈروں نے ای ڈی کے دعوے پر کہا کہ کجریوال کو انتقامی سیاست کے حصہ کے طور پر گرفتار کیا گیا ہے، لیکن لوگ ہمارے ساتھ ہیں اور ہم اس کا جواب دیں گے۔ کیجریوال کو ای ڈی نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔


Share: