ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / آرٹی آئی سے انکشاف:گنگا کی صفائی پر 2958کروڑ روپے صاف، نتیجہ صفر

آرٹی آئی سے انکشاف:گنگا کی صفائی پر 2958کروڑ روپے صاف، نتیجہ صفر

Wed, 03 Aug 2016 10:45:45    S.O. News Service

طالبہ نے ’مودی انکل‘ سے کئے سوال،تین میٹنگوں میں صرف ایک میں حاضررہے وزیراعظم

لکھنؤ 2؍اگست (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) گنگاکے تئیں وزیر اعظم نریندر مودی کی جذباتی وابستگی پر اپوزیشن پہلے ہی حملہ کر رہا ہے۔اب اعداد و شمار بھی بتا رہے ہیں کہ بی جے پی کے گزشتہ دو سال کے دور حکومت میں گنگا کی صفائی کیلئے مختص3703کروڑ روپے میں سے2982کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، لیکن اس کی حالت ابتر بنی ہوئی ہے۔لکھنؤ کی 10ویں کلاس کی طالبہ ایشوریہ شرمانے حق اطلاعات (آر ٹی آئی)کے تحت معلومات مانگیں جس کے جواب میں وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)سے جو جواب دیاگیاہے، اس سے صاف ہے کہ پروگرام زیادہ تر کاغذوں تک محدودہے۔یہی حال گزشتہ 30سال کے دوران اعلان ہوئے دیگرمنصوبوں کارہاہے۔لکھنؤکی14سالہ اس لڑکی نے 9مئی کوبھیجی گئی اپنی آر ٹی آئی درخواست میں سات سوال پوچھے تھے جس اب تک حساس مسائل، بجٹ دفعات اور اخراجات پر وزیر اعظم کی صدارت میں ہوئی ملاقاتوں کی تفصیلات شامل ہیں۔پی ایم او کے مرکزی پبلک انفارمیشن آفیسر سبرتو ہزارہ نے ان سوالوں کو جواب کے لئے مرکزی آبی وسائل، دریا ترقی اور گنگا بحالی کی وزارت کے پاس بھیج دیا۔سال 2015-16میں بھی صورت حال کچھ خاص نہیں بدلی، البتہ مرکزی حکومت نے مجوزہ 2750کروڑ روپے کے بجٹ الاٹمنٹ کو کم کرکے 1650کروڑ روپے کر دیا۔اس صورت حال سے مایوس طالبہ نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے گنگا صفائی پر چلائی گئی بھاری مہم کو دیکھتے ہوئے یہ صورتحال بالکل چونکانے والی ہے۔اس نے کہا کہ وہ اس صورتحال سے انتہائی مایوس ہیں۔اس نے کہا کہ موجودہ مالی سال (2016-17)میں مختص2500کروڑ روپے میں سے اب تک کتناخرچ کیاگیا، مرکزی حکومت کے پاس اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔اس نے ’’مودی انکل‘‘سے یہ بھی جانناچاہاہے کہ وہ اس اہم منصوبے کو لے کر سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟۔ جو اس بات سے واضح ہے کہ قومی گنگا دریا بیسن اتھارٹی کی تین میٹنگوں میں سے وزیر اعظم نے صرف ایک میٹنگ کی صدارت 26مارچ 2014کو کی تھی۔دیگر دومیٹنگوں کی صدارت مرکزی وزیر اوما بھارتی نے کی تھی، جو 27اکتوبر، 2014 اور چار جولائی، 2016کو ہوئی تھیں۔جبکہ مودی کے پیشرو منموہن سنگھ نے اس کے برعکس اپنے دوسرے دور اقتدار کے دوران ہوئی تینوں میٹنگوں کی صدارت کی تھی۔
 


Share: