نئی دہلی،29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ممبئی کی آدرش سوسائٹی معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت رخ اپنایا۔سپریم کورٹ نے آدرش سوسائٹی کوسخت پھٹکارلگاتے ہوئے کہا کہ آپ کوہمارے حکم پرعمل کرناہوگااورساری بلڈنگ کو مرکز کے حوالے کرنا پڑے گا۔کورٹ نے خبردارکیاکہ اگر آپ سارے فلیٹوں کی چابیاں بھی مرکز کو دیں نہیں توہم مرکزکوتالے توڑنے کا حکم دیں گے۔معاملے کی اگلی سماعت دو ستمبر ہوگی۔کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر سوسائٹی پوری بلڈنگ کی بحالی مرکزکونہیں دیتی کو عدالت بلڈنگ کو ڈھانے کا حکم بھی جاری کر سکی ہے۔کورٹ نے کہا کہ یا تو آپ اشیاء کی بحالی کے پیسے دیں یاسامان نکال لیں۔سپریم کورٹ نے کہاکہ سوسائٹی کو بلڈنگ کی بحالی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کورٹ نے یہ سخت تبصرہ مرکز کی دلیل پر کی جس میں کہاگیاکہ104میں سے 93فلیٹوں میں تالے لگے ہیں اور سوسائٹی نے کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا ہے جو براہ راست توہین کامعاملہ بنتا ہے۔وہیں سوسٹی نے کہا کہ بلڈنگ میں بجلی اور پانی کے علاوہ لفٹ کے قریب 15کروڑ روپے کے اوزار بیکار پڑے ہیں جو خراب ہو رہے ہیں،اس لیے انہیں تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے یا متعینہ وقت کیلئے سوسائٹی کوبحالی کی اجازت دی جائے۔کورٹ نے سوسائٹی کی درخواست پر مرکزی اور مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا تھا۔آدرش سوسائٹی نے سپریم کورٹ میں ممبئی ہائی کورٹ کے 29اپریل کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں مرکزی حکومت تو 31منزلہ عمارت کو گرانے کا حکم دیا تھا،تاہم ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے 12ہفتے کا وقت بھی دے دیا تھا۔