نئی دہلی، 2؍ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال نے قومی دارالحکومت میں آبی جماؤ کے مسئلے پر دہلی ہائی کورٹ سے سمن ملنے کے بعد کہا کہ عدالت کو ان کے بجائے یہاں کے لیفٹیننٹ گورنر کو سمن بھیجنا چاہیے ۔کیجریوال نے ایک ٹوئٹ میں کہاکہ جب ہائی کورٹ نے ایل جی کو ہی سرکار بتایا ہے، تو پھرآبی جماؤ کے مسئلہ کے لیے بھی انہیں ہی سمن جاری کیا جانا چاہیے ۔ہائی کور ٹ نے جمعرات کو دہلی حکومت کے حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرآبی جماؤ کا مسئلہ دور کرنے کے لیے موثر اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ہیں تو یہ توہین عدالت کا معاملہ ہو گا ۔اس پر دہلی حکومت کے وکیل نے حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ سینئر افسران پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔اس کے بعد عدالت نے کہا کہ اسے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔کیجریوال نے عدالت کے فیصلے کے بعد کہاکہ یہ بہت عجیب بات ہے۔ہائی کورٹ کو کس طرح اس سے کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ حکومت کس کی ہے؟ کورٹ کا ہی کہنا ہے کہ سرکار لیفٹیننٹ گورنر ہے اور کام کے لیے وہ وزیر اعلی سے کہتا ہے؟ عدالت نے شہر میں آبی جماؤ کے لیے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)اورمیونسپل کارپوریشن کو بھی پھٹکار لگائی تھی۔دارالحکومت میں بدھ کو مسلسل تین گھنٹوں تک ہوئی بارش سے دہلی ایک طرح سے ٹھہر سی گئی تھی۔امریکہ کے وزیر خارجہ اس دوران ہندوستان کے دورے پر تھے اور اس دن آئی آئی ٹی دہلی میں ان کا خطاب ہونا تھا، جس میں وہ بارش کے بعد پیدا ہوئے حالات کی وجہ سے دیر سے پہنچے۔انہوں نے دہلی کی بارش پر چٹکی بھی لی اور آئی آئی ٹی دہلی میں پہنچے سامعین سے کہاکہ مجھے نہیں پتہ کہ آپ لوگ یہاں کشتی سے پہنچے ہیں؟اس کے بعد آڈیٹوریم میں موجود لوگوں کو ہنسی چھوٹ گئی تھی۔