نئی دہلی، 2 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکزی حکومت نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس نے ہندوستان سے ’’بہت کم نوجوانوں‘‘کومتاثر کیا ہے اور مرکز اور ریاستی حکومتوں نے نوجوانوں کو بنیاد پرستی سے نکالنے کے لئے مختلف پروگرام شروع کئے ہیں۔وزیر داخلہ ہنس راج اہیر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ معلومات دیں۔انہوں نے بتایاکہ آئی ایس، داعش جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم دنیا بھر سے لوگوں کو بھرتی کرنے کیلئے منفی اورمثبت دونوں قسم کی تصاوکااستعمال کرتی ہیں۔لیکن بھارت سے انہوں نے بہت ہی کم نوجوانوں کو متاثرکیاہے۔انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے جرائم سے نمٹنے کیلئے موجودہ قانونی نظام کافی مؤثر ہے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ کچھ ریاستوں سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلوں میں دہشت گردوں کے مارے جانے اور دہشت گردوں کو سخت سزا دینے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے کچھ واقعات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور قانون نظام ریاست کا موضوع ہیں اورمتعلقہ ریاستی حکومتوں کو قانون کی دفعات کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اور سوال کے تحریری جواب میں انہوں نے بتایا کہ قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے)اورمہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو پولیس نے آئی ایس آئی ایس کے ساتھ بھارتی نوجوانوں کے مبینہ تعلقات کی تحقیقات کے لئے کیس درج کئے ہیں اور اب تک54لوگ کو گرفتار کیا گیا ہے۔