بھٹکل، 24 / جون (ایس او نیوز) بھٹکل نئے اور ہائی ٹیک بس اسٹینڈ میں پارکنگ فیس وصولی کا معاملہ کسی بڑے گول مال کی طرف اشارہ کرتا محسوس ہو رہا ہے ۔ کیونکہ پارکنگ لاٹ پر فیس وصولی کے ٹھیکیدار کا نام اور دیگر تفصیلات والا بورڈ نصب نہیں ہے ۔ فیس وصولی کی جو رسید دی جا رہی ہے اس پراین دبلیو کے ایس آر ٹی سی پارکنگ ٹکٹ چھپا ہوا ہے ۔ فیس وصول کرنے والے اہلکار سرکاری یونیفارم میں دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اگر افسران سے اس سلسلے میں پوچھیں تو وہ لوگ یہ کہتے ہوئے اپنا پلّہ جھاڑ لیتے ہیں کہ ' وہ سب ہمیں پتہ نہیں ہے ۔ پارکنگ فیس وصول کرنے کے لئے ٹینڈر دیا گیا ہے ۔'
سرکار قوانین کے مطابق اگر عوامی مقام پر پارکنگ کے لئے ٹینڈر دیا جاتا ہے تو عوام کی اطلاع کے لئے پارکنگ لاٹ میں ٹھیکہ دار کا نام، پتہ، فون نمبر، ٹینڈر کی مقررہ میعاد، مختلف گاڑیوں کے لئے وقت کے حساب سے پارکنگ فیس کی شرح وغیرہ کی تفصیلات کے ساتھ بورڈ لگایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ پارکنگ لاٹ کے حدود کی نشان دہی ، اس احاطے کی صفائی ستھرائی اور پارک کی گئی گاڑیوں کے لئے حفاظتی بندوبست یا نگراں کار، سی سی ٹی وی کیمرہ وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے ۔
لیکن بھٹکل بس اسٹینڈ میں کسی قسم کی سہولت فراہم نہ کرنے کے باوجود اور تمام قانونی شرائط و ضوابط کو طاق پر رکھتے ہوئے پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے ۔
بس اسٹینڈ میں پارکنگ کے لئے الگ سے جگہ مختص نہ ہونے کی وجہ سے لوگ جہاں چاہے پارکنگ کر رہے ہیں ۔ بسوں کی آمد و رفت کی راہ رکاوٹ بننے کے انداز میں بھی پارکنگ کی جا رہی ہے اور اس کی فیس بھی وصول کی جا رہی ہے ۔ کسی کو بس اسٹینڈ تک چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے افراد سے بھی فیس وصول کی جار ہی ہے ۔
این ڈبلیو کے ایس آر ٹی سی کے نام سے پارکنگ فیس کی جو رسید دی جا رہی ہے اور کے ایس آر ٹی سی کا یونیفارم پہنے ہوئے لوگ وصولی کر رہے ہیں اس سے گمان پیدا ہوتا ہے شاید افسران کی ملی بھگت سے ہی بھٹکل بس اسٹینڈ میں پارکنگ فیس وصولی کا کام انجام دیا جا رہا ہے ۔ اسی شک کی بنیاد پر عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ اعلیٰ افسران کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے ۔