گلبرگہ، 26/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مسٹرخواجہ صدر الدین پٹیل،نائب صدر انڈئین مسلم لیگ، ضلع گلبرگہ کے صحافتی بیان کے بموجب مولانا محمد نوح ریاستی سیکریٹری انڈین یونین مسلم لیگ نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا ہے کہ تعلقہ چیتاپور ضلع گلبرگہ کی واڑی مجلس بلدیہ میں مسلم نمائندگی ختم کرنے کی منظم سازش کی گئی ہے۔ انہوں نے اخبارات کو جاری کئے گئے بیان میں بتایا ہے کہ واڑی مجلس بلدیہ کے کل 13حلقے ہیں ان میں سے ایک حلقہ بھی مسلمانوں کے لئے مختص نہیں کیاگیا ہے۔ مسلم اکثریتی حلقوں کو ایس سی،ایس ٹی طبقات اور دیگر زمرو ں کے لئے مختص کیاگیا ہے۔ بلدی حلقوں کی تحفظات زمرہ بندی کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے جو اعلامیہ جاری کیاگیا تھااس میں بی سی اے زمرہ شامل ہی نہیں تھا۔اس سے حکومت کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔ جان بوجھ اعلامیہ میں بی سی اے زمرہ کو شامل نہیں کیا گیا تاکہ مسلمان صرف جنرل حلقوں سے انتخاب لڑنے پر مجبور ہوجائیں۔اعتراض داخل کرنے کے لئے ایک ہفتہ کا وقت دیاگیا لیکن اس اعلامیہ کے بارے میں کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔ظاہر ہے ایسی صورت میں کوئی اعتراض داخل ہی نہیں ہوا۔چیف منسٹر سدرامیا سماجی انصاف کے علمبردار ہیں۔ اقلیت نواز بجٹ پیش کرنے کے لئے ان کی خوب تعریفیں ہورہی ہیں۔کیا واڑی مجلس بلدیہ کے 23 حلقوں میں ایک بھی حلقہ مسلمانوں کے لئے مختص نہیں کیاجا سکتا؟ کیا یہی سماجی انصاف کا تقاضہ ہے؟ واڑی مجلس بلدیہ میں بی سی اے زمرہ کے لئے ایک بھی حلقہ مختص نہ ہونے کی وجہہ سے اب مسلمانوں کو جنرل زمرہ کے لئے مختص حلقوں سے الیکشن لڑنا ہوگا اور جنرل زمرہ کے لئے مختص حلقوں سے مسلم اُمیدواروں کے منتخب ہونے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔جنرل زمرہ کے لئے مختص حلقوں میں مسلم رائے دہندوں کی خاطر خواہ تعداد میں موجود گی کے نتیجہ میں ہی ان حلقوں سے مسلم اُمیدواروں کے منتخب ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ واڑی کے بلدی حلقوں کی جس طرح تحفظات زمرہ بندی کی گئی ہے اُس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ واڑی مجلس بلدیہ کے دروازے مسلمانوں کے لئے بندکردئیے گئے ہیں۔مولانا محمد نوح نے ریاست کے تمام مسلم قائدین،ارکان اسمبلی وکونسل، وزراء اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سازش کے خلاف اپنی اپنی سطح پر سخت احتجاج کریں۔انہوں نے کہاہے کہ اگر آج واڑی مجلس بلدیہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کو ختم کرنے کے لئے کی گئی سازش کو بردداشت کر لیا گیا تو آنے والے دنوں میں پنچایتی،بلدی اداروں اور اسمبلیوں،پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کو یکسر ختم کر نے کی سازش کی جاسکتی ہے۔مولانا محمد نوح نے کہا ہے کہ کرنا ٹک مسلم لیجسلچرس فورم کو اس سلسلہ میں فوری آگے آنا چاہئے۔ مولانا محمد نوح نے کہاہے کہ واڑی مجلس بلدیہ کا انتخاب فوری ملتوی کر تے ہوئے بلدی حلقوں کے لئے تحفظات زمرہ بندی کا از سر نو تعین کیا جانا چاہئے اور بی سی اے زمرہ کے لئے کم از کم 4 حلقوں کو مختص کیا جانا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو انڈین یونین مسلم لیگ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے خلاف زبردست احتجاج منظم کر ے گی۔