کاروار 19 / جون (ایس او نیوز) ضلع کے ساحلی علاقے میں گزشتہ دس سال سے چل رہے نیشنل ہائی وے 66 کے فور لین توسیعی منصوبے کا کام ابھی تک مکمل نہ ہونے پر ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے افسران کو لتاڑتے ہوئے پوچھا کہ آپ کو کوئی شرم و حیا ہے کہ نہیں ؟
وزیر منکال وئیدیا نے کاروار میں منعقدہ سہ ماہی جائزہ "کے ڈی پی" میٹنگ میں نیشنل ہائی وے کی افسران کو بڑے سخت لہجے میں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کاروار کے ماجالی سے بھٹکل کے شیرالی تک فورلین کا کام گزشتہ دس سال سے چل رہا ہے ۔ نامکمل کام کی وجہ سے روزانہ کہیں نہ کہیں حادثے ہو رہے ہیں اور لوگوں کی جان جا رہی ہے ۔ توسیعی کام کا ٹھیکہ لینے والی کمپنی ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہی ہے ۔ منکال نے پوچھا کہ اس کام کو مکمل کرنے کے لئے اب مزید کتنا عرصہ درکار ہے ۔ ٹھیکیدار کمپنی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے ؟
وزیر موصوف کے سوال پر جواب دیتے ہوئے نیشنل ہائی وے کے افسران نے بتایا کہ ضلع میں جیلّی کی قلت ہوگئی ہے ۔ ضلع میں کہیں بھی جیلّی بنانے کے لئے پتھر دستیاب نہیں ہے ۔ اس وجہ سے کام آگے نہیں بڑھ رہا ہے ۔ اس پر وزیر منکال وئیدیا نے پوچھا کہ سڑک کنارے جیلّی پتھروں کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ، ان کا استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ؟ کیا ان پتھروں کو دوسری جگہوں پر فروخت کیا جا رہا ہے ؟ اسی کے ساتھ انہوں نے محکمہ کانکنی و ارضیات کے افسران کو ہدایت دی کہ نیشنل ہائی وے کے کنارے پڑی ہوئی تمام جیلّی فوری طور پر ضبط کر لی جائے ۔
منکال وئیدیا نے افسران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے کی وجہ سے ہونے والے کسی بھی مسئلہ کے لئے این ایچ اے اور ٹھیکیدار کمپنی ہی ذمہ دار ہوگی ۔
