اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 21st February 2018, 9:50 PM | اسپیشل رپورٹس | اسلام | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ہے۔ اور بعض مسائل کے حوالے سے حکومت ہند اور ان کے نمائندہ بھی گفتگو کرنے لگے ہیں میڈیا میں بھی بحثیں ہونے لگی ہیں اور ان مسائل نے خاصی پیچیدہ صورت اختیار کرلی ہے۔طلاق،تعدد ازدواج معاشی،سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں صنف نازک کی شراکت کے حوالے سے میڈیا میں عام طور پر بحثیں جاری رہتی ہیں۔کہا جاسکتا ہے کہ بہت سے مسائل حقیقی ہیں لیکن اکثر معاملات ایسے ہیں جن کو میڈیا ضرورت سے زیادہ اچھال رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی عورت نے مشرقی عورت کے مقابلہ میں سماجی،قانونی،معاشی اور سیاسی حقوق کچھ حد تک حاصل کرلئے ہیں لیکن ان حقوق کے حصول میں مغربی عورت کو جو مسلسل جدوجہد کرنی پڑی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو کچھ وہ گنوا بیٹھی ہے وہ معمولی نہیں ہے۔

اگر ہم مغرب کی معاشرتی زندگی کا بغور تجزیہ کریں تو ہم جان لیں گے کہ مغربی عورت بہت سی چیزوں سے محروم ہوچکی ہے وہ خاندانی نظام زندگی،ذہنی سکون،نسانی وقار اور حیاء کے زیور سے محروم ہوچکی ہے۔دوسری جانب اگر ہم اسلام میں عورت کے حقوق کا جائزہ لیں تو جان لیں گے کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل ہی عورت کو بے شمار حقوق عطا کردیئے تھے۔جس وقت دنیا کی دیگر تہذیبیں اور دیگر قومیں عورت کو انسان تسلیم کرنے اور اس کو انسانی حقوق فراہم کرنے سے بھی ہچکچا رہی تھیں۔قرآنی احکام آج سے چودہ سو سال پہلے ناز ل ہوا جس میں ارشاد ربانی ہے:ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف وللرجال علیہن درجہ واللہ عزیز حکیم۔’’عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں،جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اختیار رکھنے والا ہے اور حکیم ودانا موجود ہے۔‘‘آیت کریمہ کے ترجمہ پر نظر ڈالیں اللہ رب العزت نے صاف صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے ایک دوسرے پر یکساں حقوق ہیں اور اس بات کی نفی قرآن کریم کی کوئی دوسری آیت نہیں کرتی ہے۔آیت کریمہ کے آخری الفاظ میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ایک طرح کی فضیلت حاصل ہے۔لیکن یہ کیسی فضیلت ہے اس کو جاننے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی دوسری آیت کو دیکھنا ہوگا۔

رب کریم کا ارشاد ہے:الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللّٰہ بعضہم علی بعض وبما انفقوا من اموالہم۔’’مرد عورتوں پر قوام ہیں،اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں‘‘۔دونوں کو آیات کو سامنے رکھیں اور اس آیت سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ چونکہ عورت صنف نازک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا قوام (محافظ)بنایا ہے۔حیاتیات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت کہ مرد عورت سے جمسانی طور پر مختلف واقع ہوا ہے کیونکہ وہ کم از کم جسمانی لحاظ سے عورت سے زیادہ طاقتور ہے۔اسی وجہ سے اسے زیادہ ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔اب یہ بات واضح ہوگئی کہ مرد کو جو ایک درجہ دیا گیا ہے اس کا تعلق حقوق سے نہیں بلکہ اس کا تعلق فرائض سے ہے۔چنانچہ مر دکو ملنے والا درجہ نا تو صنف نازک کے حقوق میں کمی کا باعث ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت کو گھٹاتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ مرد کو عورت کے تحفظ کی جو ذمہ داری دی گئی ہے یہ مرد کی سب سے اہم اور نازک ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کا پورا پورا احساس ہر مرد کو ہونا انتہائی ضروری ہے۔یہ الگ بحث ہے کہ مرد اپنی ذمہ داری کو معاشرتی،سیاسی اور سماجی سطح پر پورا کررہا ہے کہ نہیں لیکن یہ بات تو واضح ہوگئی کہ عورت کو اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل ہی مرد کے مساوی اور یکساں حقوق فراہم کئے ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ حکومت جس کا کام تعلیم ،روزگار ،صحت کے میدان میں کام کرنا تھا،اسے بھوک سے تڑپتی بہنیں ،بچیاں نظر نہیں آرہی ہیں ،جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی بیٹیاں نظر نہیں آرہی ہیں پڑوسی ملک میں زینب کے عصمت دری کے ملازمین کو سزا مل جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں جو عصمت دری کے ملزمین پر کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ۔

میڈیا جس کا معاشرہ کی سچائی عوام کو دکھانا تھا وہ بھی اب خواتین کے حقوق کے نام پر اسلام پر حملہ آور ہے۔جبکہ یہ بات مسلم ہے کہ ہندوستان کی تمام مسلم خواتین اپنے پرسنل لاء کو اپنے شرعی قوانین کو اپنے لئے اعزام سمجھتی ہیں ۔گذشتہ سالوں میں جس طرح اسلام میں عورت کے حقوق پر گفتگو کی جارہی ہے اس کو مظلوم اور قیدی بناکر پیش کیا جارہا ہے اس کے حقوق کے نام پر اسلامی شریعت کو نشانہ بنایا جارہے وہ افسوس ناک ہے اور یوں زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ ہم خواتین اسلام اپنی شریعت پر مطمئن ہیں تو ان چند کوڑیوں کے لادین اور لامذہب افراد کو ہمارے حقوق کے بارے میں بات کرنے کا کیا حق ہے۔اس وقت میڈیا پروپیگنڈے سے متأثر ہوکر بہت سے سنجیدہ فکر کی بہنیں بھی یہ محسوس کرنے لگی ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو مکمل حقوق فراہم نہیں کئے گئے ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔اگر وہ اسلام کا بنظر انصاف مطالعہ کریں گی تو جان لیں گی اسلام میں عورت کا مقام ہے.

(مضمون نگار  معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند  کی فاضلہ ہیں)

 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں 110 کے وی اسٹیشن کے قیام سے ہی بجلی کا مسئلہ حل ہونے کی توقع؛ کیا ہیسکام کو عوامی تعاون ملے گا ؟

بھٹکل میں رمضان کے آخری دنوں میں بجلی کی کٹوتی سے جو پریشانیاں ہورہی تھی، سمجھا جارہا تھا کہ  عین عید کے  دن  بعض نوجوانوں کے  احتجاج کے بعد  اُس میں کمی واقع ہوگی اور مسئلہ حل ہوجائے گا، مگر  عید الفطر کے بعد بھی  بجلی کی کٹوتی یا انکھ مچولیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور عوام ...

بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ضروری سہولتیں تو موجود ہیں مگر خالی عہدوں پر نہیں ہورہا ہے تقرر

جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔ 

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

خود کا حلق سوکھ رہا ہے، مگر دوسروں کو پانی فراہم کرنے میں مصروف ہیں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے نوجوان؛ ایسے تمام نوجوانوں کو سلام !!

ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری طرف رمضان کا مبارک مہینہ  ۔ حلق سوکھ رہا ہے، دوپہر ہونے تک ہاتھ پیر ڈھیلے پڑجاتے ہیں،    لیکن ان   نوجوانوں کی طرف دیکھئے، جو صبح سے لے کر شام تک مسلسل شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر گھر گھر پانی سپلائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں  نہ تھکن کا ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

عیدالفطر: فضائل و احکام ........... آز: عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

جب بندہ تیس دن تک لگاتار روزے رکھتا ہے،روزے کےمطلوبہ تقاضے پورے کرتا ہے،قیام اللیل کے ذریعہ تقرب الہی کے ذرائع تلاش کرتاہے، خدمت خلق کے ذریعہ اپنےخالق و مالک کو راضی کرلیتا ہےاور اسی کی عبادت و فرماں برداری میں سارا وقت صرف کرتا ہےتو حق تعالیٰ  اس پیہم محنت و جدوجہد کے بعد ...

نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ ................ آز: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ہمیں سال کے اختتام پر، نیز وقتاً فوقتاً یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ...

مٹھی بھر شر پسند عناصر ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث( ہند) سے جاری ایک اخباری بیان کے مطابق مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے امرتسر میں نرنکاری ست سنگ ڈیرہ پر ہوئے گرینیڈ حملہ جس میں تین افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہوئے، کی پر زور مذمت کی ہے اور اسے بزدلانہ اورغیر انسانی ...

ماہ صفر مظفر اور بد شگونی ......... بقلم: محمد حارث اکرمی ندوی

فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( الأعراف 131) ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

دُبئی میں 18 برس سے کم عمر بچوں کی ویزہ مفت؛ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک رہے گی سہولیت

 متحدہ عرب امارات میں سیاحتی سیزن کے دوران غیر مُلکی سیاحوں کے 18 برس سے کم عمر بچوں کے لیے مفت ویزے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اعلان فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈینٹٹی اینڈ سٹیزن شپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ دُبئی میں ہر سال سیاحتی سیزن کا آغاز 15 جولائی سے ہوتا ہے جو 15 ستمبر تک جاری ...

اسپتال قائم کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے: کاروار میں ایم پی اننت کمار ہیگڈے کا تکبرانہ بیان

ضلع شمالی کینرا میں ایک ٹراما سینٹر اور سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل تعمیر کرنے کے لئے سوشیل میڈیا جو مہم چلائی جارہی ہے اور متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو میمورنڈم دئے جارہے ہیں اس سلسلے میں ضلع کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے اب تک کسی قسم کاردعمل ظاہر نہیں کیاتھا۔ الٹے سوشیل ...

کاروار میں شراب کے نشے میں دُھت کار چلانے کے دوران چار سواریوں کو ٹکر دینے کے بعد عوام نے نیوی اہلکار کی لی خوب خبر

نیوی اہلکار کو کاروار میں  اُس وقت عوام  کے ہاتھوں بری طرح    پٹنا پڑا جب  شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کرنے کے دوران اس کی کار  یکے بعد دیگرے چار کاروں سے ٹکرا گئی۔ واردات  کاروار کے بِنگا میں کدمبا نیوی کے گیٹ کے قریب سنیچر شب کو  پیش آیا۔