بھٹکل جامعہ اسلامیہ کے بانی ڈاکٹر علی ملپا صاحب انتقال کرگئے؛ کل تدفین تک دکانیں بند رکھنے تنظیم کی ا پیل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st September 2017, 9:50 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل یکم ستمبر (ایس او نیوز)  جنوبی ہندوستان کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ کے بانی وصدر اور قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے سرپرست ڈاکٹر علی ملپا صاحب آج جمعہ کی شام انتقال کرگئے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔

ڈاکٹر علی ملپا صاحب کی طبیعت گذشتہ کچھ دنوں سے علیل تھی، انہیں مینگلور کے ڈاکٹروں کو بھی دکھایا گیا تھا مگر طبیعت میں سدھار نظر نہیں آیا، آج عیدالاضحیٰ کے مبارک دن عشاء کی اذان ہوتے ہوتے موصوف داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کی عمر سوسال تھی۔

انتقال کی خبر ملتے ہی نوائط کالونی میں واقع ان کے مکان پر لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ تنظیم کے صدر جناب مزمل قاضیا، نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری، جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری،  سکریٹری مولوی یاسر برماور ندوی، دیگر عہدیداران صدیق ڈی ایف،  ایس ایم پرویز وغیرہ بھی انتقال کی خبر سنتے  ہی ان کے مکان پر پہنچ گئے اور گھروالوں سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے حق میں دعائے  مغفرت کی۔

انہوں نے اپنے پیچھے پانچ فرزندان، پانچ دُختران اور بے شمار عقیدتمندچھوڑے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ کل سنیچر بعد نماز ظہر نوائط کالونی تنظیم جامع مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور قریبی قبرستان میں ہی تدفین عمل میں آئے گی۔

اس موقع پر مجلس اصلاح و تنظیم نے تمام مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ  کل سنیچر کو مرحوم ڈاکٹر علی ملپا صاحب کی تدفین تک اپنے اپنے کاروبار اور دکانوں وغیرہ کو بند رکھیں اور جنازے میں شریک ہوں۔

موصوف کے انتقال پر بھٹکل کے کئی ایک اداروں کے ذمہ داروں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔