ہندوستان ڈیجیٹل فروغ اورترقی کے دورسے گذررہاہے ، سنگاپورمیں جاری فنٹیک فیسٹول میں وزیراعظم کاخطاب

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 15th November 2018, 2:30 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

سنگاپور:14/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیراعظم نے سنگاپورمیں جاری فنٹیک فیسٹول میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ہندوستان پر چھاجانے والے مالیاتی انقلاب اور ہندوستان کے 1.3 ارب عوام کی زندگی میں بہتر تبدیلیوں کا اعتراف ہے۔ہندوستان اور سنگاپور ہندوستانی اور آسیان ملکوں کے چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروباری اداروں کوایک دوسرے کے درمیان رابطہ کاری کے لیے کام کررہے ہیں۔یہ دونوں ملک ایک ہندوستانی پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے اسے عالمی پیمانے تک وسعت دینے کے لیے کام کررہے ہیں۔مودی نے کہاکہ ہم آج ٹکنالوجی کے ذریعہ لائی جانے والی تاریخی تبدیلیوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ڈیسک ٹاپ سے کلاؤڈ تک ، انٹر نیٹ سے سوشل میڈیا تک، انفارمیشن ٹکنالوجی خدمات سے انٹر نیٹ کی وسیع وعریض دنیا تک ہم نے ایک انتہائی قلیل مدت میں طویل مسافت طے کی ہے۔ کاروباروں میں آج بھی روزانہ رخنہ اندازیاں ہوتی رہتی ہیں۔عالمی معیشت کاکردار تبدیل ہورہا ہے۔ٹکنالوجی نئی دنیا میں مقابلہ جاتی سرگرمیوں اورطاقت کی نئی تعریفیں وضع کررہی ہے۔ہندوستان میں اس نے حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کے نظام میں زبردست تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔اس نے جدت طرازی ، امیدوں اور مواقع کے نئے دور کا آغاز کیا ہے۔اس نے کمزوروں کو بااختیار بنایا ہے اور حاشئے پر پڑے لوگوں کو مرکزی قومی دھارے میں شامل کیا ہے۔ اس نے معاشی رسائی کو مزید جمہوری بنایا ہے۔مودی نے کہاکہ ہماری جن دھن یوجنا کا مقصد ہر ہندوستانی شہری کو ایک بینک کھاتہ دستیاب کرانا ہے۔ محض تین برس کی محدود مدت میں ہم نے بینکوں میں 330 ملین نئے کھاتے کھولے ہیں۔آج شناخت ،وقار او ر مواقع کے 330 ملین ذرائع موجود ہیں۔ب کسی دوردراز کے گاؤں میں رہنے والے کسی غریب شہری کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے یا تو طویل سفر کرنا پڑے گا نہ کسی بچولئے کو رقم دینی ہوگی۔اب نقلی کھاتے سرکاری مالیات سے خون نہیں چوس سکیں گے۔ہم نے اس رساؤ کا تدارک کرکے 80 ہزار کروڑروپے یا بارہ ارب ڈالر سرمائے کی بچت کی ہے۔ اب غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے والے لاکھوں لوگوں کو ان کے کھاتوں میں بیمہ فراہم کرایا جارہا ہے اور ان کے دورضعیفی میں ان کی پنشن کی سلامتی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ہندوستان مختلف النوع حالات اور چیلنجوں کا ملک ہے۔ اس لئے ہمارے تدارکات اور سد باب کے طریقے بھی متنوع ہونے چاہئیں ۔ ہمارا ڈجیٹائزیشن اس لئے کامیاب رہا ہے کیونکہ ادائیگی سب کی ضروریات کی تکمیل کرتی ہے۔جو لوگ موبائل اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ، ان کے لئے اپنی ادائیگی کا سچا پتہ استعمال کرتے ہوئے۔کھاتوں کے درمیان ادائیگی کے عمل کا انتہائی جدید ترین ،سہل ترین اور لامحدود پلیٹ فارم دستیاب ہے۔وہ لوگ جو انٹرنیٹ کے بغیر موبائل استعمال کرتے ہیں ، ان کے لئے بارہ زبانوں میں یو ایس ایس ڈی کا نظام موجود ہے۔اوران لوگوں کے لئے جو نہ تو موبائل استعمال کرتے ہیں نہ انٹر نیٹ ۔آدھارپرمبنی ادائیگی کا نظام موجود ہے ،جس میں بایو میٹرک کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں اب تک ایک ارب سے زائد سودوں کا اندراج ہوچکا ہے اور محض دو برس کی مختصر مدت میں اس میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔اب بینک انہیں قرض فراہم کرارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی قرض کے متبادل پلیٹ فارم ، مالیہ کاری کے جدت طراز طریقے پیش کررہے ہیں۔ اب انہیں خطیر شرح سود پر بازار سے غیر رسمی قرض حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اور اب اسی ماہ ہم نے بہت چھوٹے ،چھوٹے اوردرمیانہ درجے کے کاروباروں کے لئے ایک کروڑروپے یا ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر تک کے قرضوں ک منظوری کا وعدہ کیا ہے۔یہ قرض محض 59 منٹ کی کمترین مدت میں بینک جائے بغیر دستیاب کرا ئے جاسکیں گے۔ڈجیٹل ٹکنالوجی سے نہ صرف شفافیت پیدا ہورہی ہے بلکہ سرکار کی گورنمنٹ ای 150 مارکیٹرجی ای ایم جیسی جدت طرازیوں کے ذریعہ بدعنوانیاں بھی ختم کی جارہی ہیں ۔ یہ سرکار ی ایجنسیوں کے ذریعہ کی جانے والی خریداریوں کا ایک مربوط پلیٹ فارم ہے۔یہ سب کچھ فراہم کراتا ہے۔ تلاش اور موازنہ ، ٹینڈر ، آن لائن آرڈرکرنا ،ٹھیکے تیار کرنا اور ادائیگیاں ،قصہ مختصر ساری سہولیتں دستیاب کراتا ہے۔آج اس کی 6 لاکھ سے زائد مصنوعات موجود ہیں۔تقریباََ 30 ہزار خریدار تنظیمیں اور ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد فروخت کاروں اور خدمات فراہم کاروں کا اندراج اس پلیٹ فارم پر کیاجاچکاہے۔مودی نے کہاکہ آج ہندوستان میں فنٹیک کی جدت طرازیوں اور کاروبار کا ایک دھماکہ سا ہورہا ہے۔ اس نے ہندوستان کو دنیا بھر میں ایک تیزرفتاری سے ترقی کرنے والا فنٹیک اور اسٹارٹ اپ ملک بنادیا ہے۔آج ہندوستان میں فنٹیک اور صنعت 4.0 تیزی کے ساتھ ابھررہے ہیں۔ آج ہمارے نوجوان ایسے ایپ تیار کررہے ہیں ، جن سے کاغذ کے بغیر ،نقدی کے بغیر ، موجودگی کے بغیر ، محفوظ سودوں کے خواب کو ہر ایک کے لئے ممکن بناتے ہیں۔ یہی دراصل انڈیا اسٹیک کی حقیقی حیرت ہے ، جو بہت ہی سادہ طریقے سے ایپلی کیشن پرامنگ انٹر فیس کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے بینکوں ،ضابطہ کاروں اور صارفین کے لیے حل تلاش کرنے کی مشینیں ،آرٹیفیشیل انٹلی جنس اور بلوک چین استعمال کررہے ہیں ۔ یہ لوگ صحت او ر تعلیم سے بہت چھوٹے قرض اور بیمے تک ہمارے تمام قومی ،سماجی مشن کی پاسداری کررہے ہیں۔مودی نے مزیدکہاکہ ہندوستان میں دستیاب صلاحیتو ں کا زبردست مجموعہ ڈجیٹل انڈیا اور اسٹارٹ اپ انڈیا جیسے اقدامات کے پیدا کردہ ماحولیاتی نظام سے زبردست فوائد حاصل ہورہے ہیں۔اس کے لئے امدادی پالیسیاں ،ترغیبات اور مالیہ فراہمی کے پروگرام بھی چلائے جارہے ہیں۔ یہ اس لئے بھی ہمارے لئے زیادہ معاون ہے کہ ہندوستان میں دنیا بھر سے زیادہ اعداوشمار کی کھپت اور ارزاں شرحوں پر اعدادوشمار دستیاب ہیں۔ ہندوستان واقعی فنٹیک کی سہولیات کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والا ملک ہے۔اس لیے میں تمام فنٹیک کمپنیوں سے کہتا ہوں کہ ہندوستان آپ کی بہترین منزل ہے۔ ایل ای ڈی بلب تیار کرنے والی صنعت نے ہماری معیشت کو زبردست بلندی عطا کردی ہے۔ علاوہ ازیں اس صنعت سے ٹکنالوجی کو عالمی سطح پرمزید کفایتی بنا یا جاسکا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے وسیع ترین بازار فنٹیک کی کمپنیوں کو معیاروں کے حصول ، خطرات میں تخفیف اور قیمتوں میں کمی کرکے عالمی حیثیت حاصل کرنے کی سہولیت فراہم کراتے ہیں۔ہندوستان کی کہانی فنٹیک کے چھ عظیم ترین فوائدکی کہانی بیان کرتی ہے ،جس میں رسائی ،شمولیت ،رابطہ کاری ،جینے کی آسانی ،مواقع اورجوابدہی کی ذمہ داری شامل ہے۔آج پور ی دنیا میں خطہ ہند ۔ اوقیانوس اور لاطینی امریکہ تک ہماری کہانیاں نہ صرف حوصلہ افزا ہیں بلکہ غیر معمولی جدت طرازیوں اور عام زندگی میں تبدیلیاں پیداکرنے کی کہانیاں ہیں۔ ہماری توجہ سبھی کے لئے ایسی ترقی پر مرکوز ہونی چاہئے، جس میں حاشئے پر پڑے دور دراز کے مفلوک الحال لوگوں کی ترقی بھی شامل ہو۔ ہمیں دنیا میں بینک کھاتوں کی سہولت سے محروم 1.7 ارب افراد کو رسمی مالیاتی بازار تک رسائی دستیاب کرانی ہے۔ہمیں دنیا بھر کے غیر رسمی شعبوں کے ایک ارب سے زائد مزدوروں کو بیمے اور پنشن کی سہولت فراہم کرانی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اب تک یہ سہولت دستیاب نہیں ہوسکی ہے۔ہم فنٹیک کو اس لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں کہ ہمارا کوئی بھی خواب اپنی عملی تعبیر سے محروم نہ رہ جائے ، ہمارا کوئی بھی کاروبار مالیہ کے فقدان کے سبب ترقی نہ کرسکے۔ہمیں اپنے مالیاتی اداروں اور بینکوں کو خطرات کے انتظام وانصرام ، جعل سازیوں سے مقابلے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے مزید بھروسے مند بنانا ہوگا اور اس عمل میں رسمی طریقے حارج نہیں ہونے چاہئیں۔ہمیں ٹکنالوجی کو تکمیل ، ضابطہ کاری اور نگرانی میں بہتری پیداکرنے کے لئے استعمال کرنا ہوگا تاکہ جدت طرازیاں ترقی کرسکیں اور خطرات پر قابو پایا جاسکے۔ہمیں فنٹیک کے وسائل کو منی لانڈرنگ اور دیگر مالیاتی جرائم سے مقابلے کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔مالیہ کا ابھرتا ہوا بازار اسی صورت میں ہماری بین رابطہ کاردنیا میں کامیاب ہوسکے گا ، جب ہمارے اعداد وشمار اور نظام بھروسے مند اور محفوظ ہو۔ہمیں تاروں سے مربوط اپنے عالمی نظام کو سائبر خطرات سے بچانا ہوگا۔ ہمیں اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ فنٹیک کے کاموں کی مقدار اور رفتار عوام کی فلاح اور فوائد کے لئے ہو نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کے لئے ہو۔ مالیہ میں یہ ٹکنالوجی انسانی حالات میں راست رابطہ کاری میں بہتری کے لئے استعمال کی جانی چاہئے ،جس میں حاشئے پر پڑ یدو ردراز کے غریب لوگوں کے حالات زندگی تک راست رسائی حاصل ہو۔وزیراعظم نے کہاہندوستان پوری دنیا سے علم حاصل کررہا ہے اور ہم پوری دنیا کے ساتھ مل کر تجربات اور مہارتوں کی چہرہ کاری کریں گے۔کیونکہ ہندوستان کو دوسروں سے بہت زیادہ امیدیں ہیں اور ہم نے ہندوستان کے لئے جو خواب دیکھ رکھا ہے ، ہم اسی خواب کو پوری دنیا کا خواب بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لئے ایک مشترکہ سفر ہے۔اندھیرے کے مقابلے روشنی پھیلانے والے ، امیدیں اور خوشحالی لانے والے روشنیوں کے تیوہار دیپا ولی کی طرح اس سال بھی دیپاولی کا تیوہار انسانیت کے لئے بہتر مستقبل کے لئے کام کرنے کا نعرہ دے رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

لوک سبھا انتخابات؛ آخری مراحل کے انتخابات جاری؛ 918 اُمیدواروں کی قسمت داو پر؛ ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں؛ بنگال میں دو کاروں پر حملہ

لوک سبھا انتخابات کے ساتویں  اور آخری مرحلہ کے لئے اتوار کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔جس میں  918 امیدواروں کی قسمت دائو پر لگی ہوئی ہے۔آج جاری انتخابات میں  وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی بھی شامل ہے۔ 

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...

سری لنکا: مسلم مخالف فسادات میں ایک شخص ہلاک، مساجد کو نقصان

حکومتی وزیر رؤف حکیم کے مطابق مسلم مخالف فسادات میں ایک مسلمان ہلاک ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رؤف حکیم کا تعلق مسلم کانگریس نامی سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ سیاسی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ حکیم کے مطابق مشتعل افراد نے پیر تیرہ ...

بنگلور میں 23/ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دوران امتناعی احکامات نافذ

23 مئی کو لوک سبھاانتخابات کے نتائج کا اعلان ہورہا ہے۔ انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے مرحلے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کے لئے شہر کے پولیس کمشنر سنیل کمار نے 23مئی کی صبح چھ بجے سے شہر بھر میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلدی انتخابات کے لئے 5945 نامزدگیاں داخل

ریاست بھر کے بلدی اداروں کے لئے 29 مئی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نامزدگیوں کے اندراج کی تاریخ کل ختم ہونے کے بعد جملہ 5945 نامزدگیاں داخل کی گئی ہیں۔

مودی کی اقتدار میں واپسی کے تمام راستے بند: راہل گاندھی

 کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے حزب اختلاف کے طور پر کانگریس کی کارکردگی کو کامیاب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پارٹی نے مؤثر طریقہ سے عوام کے مسائل کو اٹھایا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے ان کے تمام راستے بند کر دئے گئے ...