نمونیا ایک ایسا مرض، جس کا علاج موجود، پھر بھی مہلک ترین مرض؛ ایک سال میں آٹھ لاکھ بچے جاں بحق

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 13th November 2019, 11:38 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی 13/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ رہی۔

اس رپورٹ میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیاگیا ہے کہ قابل علاج اور قابل تشخیص ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال یونیسیف، بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے ساتھ ساتھ صحت سے متعلق اداروں کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نمونیا کے خلاف ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔

'جی اے وی آئی‘ ویکسین الائنس کے چیف ایگزیکیٹو سیتھ برکلے، ''حقیقت یہ ہے کہ اس مرض کا علاج ممکن ہے، اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور اس کی تشخیص بھی کوئی مشکل مرحلہ نہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ مرض دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔‘‘

نمونیا پھیپھڑوں کی ایک بیماری ہے، جو بیکٹریا، وائرس یا فنگس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نمونیا کے مریض کے پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے کے باعث انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بیماری کا اینٹی بائیوٹکس سے علاج کیا جا سکتا ہے جبکہ مرض کے سنگین ہونے کی صورت میں آکسیجن کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔

نمونیا سے بچاؤ کے لیے بچوں کو ایسے ٹیکے لگائے جا سکتے ہیں، جن سے ان کے اندر اس موذی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جائے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کے اندر نمونیا کے مرض کی تشخیص وقت پر ہو جائے تو بچے کو ممکنہ علاج کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ترقی پذیر ممالک میں ان سہولیات تک رسائی اکثر محدود ہوتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سی بی ایس ای طلباء کو راحت، 9؍ویں سے 12؍ ویں کے نصاب میں 30 فیصد تخفیف

کووڈ-19 کے بڑھتے معاملات کے درمیان اسکول کے نہ کھل پانے کی وجہ سے نظام تعلیم پر اثر اور کلاسز کے اوقات میں بھی آئی کمی کے پیش نظر سی بی ایس ای نے منگل کو تعلیمی سال 21-2020 کے لئے 9ویں -12ویں کا نصاب 30 فیصدی تک کم کر دیا ہے۔

کورونا انفیکشن: ہندوستان ہوا بے حال، مریضوں کی تعداد تقریباً 7.5 لاکھ، مہلوکین 20642

 ہندوستان میں کورونا کا قہر لگاتار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے روزانہ 20 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آ رہے ہیں اور مہلوکین کی تعداد میں بھی 400 سے 500 کے درمیان درج کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ہندوستان میں کورونا متاثرہ افراد کی کل تعداد 7.42 لاکھ اور ہلاکتوں ...

ساری توجہ کورونا پر ہے تو کیا دیگر مریض مرجائیں۔۔۔ ؟؟ اسپتالوں میں علاج دستیاب نہ ہونے کے سبب غیر کورونا مریضوں کی اموات میں بے تحاشہ اضافہ

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کے ساتھ شہر میں صحت کا انفرسٹرکچر سرکاری سطح پر کس قدر ناقص ہے وہ سامنے آرہا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بڑے بڑے اسپتال کھول کر انسانیت کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے والے تجاری اداروں کے دعوے کورونا وائرس کے ...

بھٹکل میں ہیسکام کے بجلی بل کی ادائیگی کو لے کر تذبذب : حساب صحیح ہے، میٹر چک کرلیں؛افسران کی گاہکوں کو صلاح

تعلقہ میں لاک ڈاؤن کے بعد  ہیسکام محکمہ کی طرف سے جاری کردہ بجلی بلوں  کو لے کر عوام تذبذب کا شکار ہیں۔ ہاتھوں میں بل لئے ہیسکام دفتر کاچکر کاٹنے پر مجبور ہیں، کوئی مطمئن تو کوئی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پلٹ رہاہے۔ بجلی بل ایک  معمہ بن گیا ہے نہ سمجھ میں آر ہاہے نہ سلجھ ...

”مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے“ ۔۔۔۔۔ از:مولانا محمدحسن غانم اکرمیؔ ندوی ؔ

   اگر تمھارے پاس کوئی شخص اپنی امانت رکھوائے،اورایک متعینہ مدت کے لئے وہ تمھارے پاس رہے،کیا اس دوران اس چیز کا بغیر اجازت اور ناحق تم استعمال کروگے،کیا ا س میں اپنی من مانی کروگے؟یا چند دن آپ کے پاس رہنے سے وہ چیز تمھاری ہو جائے گی کہ جب وقت مقررہ آجائے اور مالک اس کی فرمائش ...