ہندوہو؟بچ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! :شو نرائن راج پروہت

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 26th February 2020, 9:03 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

 (زیر نظر تحریر دراصل انڈین ایکسپریس کے صحافی شونرائن راج پروہت کی اس انگریزی رپورٹ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہوں نے دہلی کے جمناپارفساد زدہ علاقوں میں پیش آنے والی اپنی سرگزشت بیان کی ہے۔۔۔انڈین ایکسپریس نے آج کی اشاعت میں اس فساد کے مختلف پہلوؤں پراپنے نصف درجن رپورٹروں کی شاندار اور تفصیلی رپورٹیں بھی شائع کی ہیں۔ہم پر واجب ہے کہ انگریزی صحافیوں اور خاص طورپرانڈین ایکسپریس کے صحافیوں کی ستائش میں دو بول ضرور بولیں۔۔۔ ساحل آن لائن )۔

 ”۔۔۔۔۔ یہ کوئی دن کے ایک بجے کا عمل تھا۔۔۔میں کراول نگر کی ایک بیکری کے سامنے بیکری کے مالک کا موبائل نمبر نوٹ کرنے کے لئے رکا۔اس بیکری کے سارے بنے ہوئے مال اور فرنیچر کو آگ کے حوالے کرکے بیچ سڑک پر ڈال دیا گیا تھا۔۔۔40سال کی عمر کا ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا: کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے ہو؟۔۔۔میں نے خود کو ایک صحافی کے طورپر متعارف کرایا۔اس نے مجھ سے میری نوٹ بک چھین کر اس پر نظر دوڑائی۔۔۔اسے کچھ موبائل نمبروں اور صورتحال پر میرے کچھ نوٹس کے علاوہ کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم یہاں سے رپورٹنگ نہیں کرسکتے۔اس نے میری نوٹ بک کو بھی اسی آگ کے حوالے  کردیاجس میں بیکری کا سامان جل رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے مجھے کوئی پچاس لوگوں نے گھیرلیا۔ان کا شک بڑھتا گیا کہ میں نے اپنے موبائل میں تشدد کی تصاویر کھینچی ہیں۔انہیں میرے موبائل میں ایسا کوئی ویڈیویا فوٹو نہیں ملا۔لیکن انہیں اس پر تشفی نہیں ہوئی اورانہوں نے میرے موبائل میں موجود ہر ویڈیو اور ہر فوٹو کو ڈلیٹ کردیا۔

 انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟کیا تم جے این یو سے ہو؟انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو یہاں سے فوراً بھاگ جاؤ۔جو کچھ مجھے مزید پیش آنے والا تھا یہ اس کی طرف اشارہ تھا۔میری موٹر سائکل ایک گلی میں کوئی دوسو میٹر دور کھڑی تھی۔میں موٹر سائکل کی طرف جانے لگا۔جیسے ہی میں اس گلی میں مڑا مجھے ایک اور ہجوم نے گھیر لیا۔اس کے ہاتھ میں لاٹھی‘ڈنڈا اور لوہے کی چھڑیں تھیں۔انہوں نے بھی مجھ پر تشدد کی فوٹوز کھینچنے کا الزام دوہرایا۔ایک نقاب پوش نوجوان نے مجھ سے فون دینے کو کہا۔میں فون دینے کو تیار نہیں تھا۔میں نے کہا کہ تمام فوٹوز اور ویڈیوز ڈلیٹ کردی گئی ہیں۔وہ زور سے چیخا: فون دے۔وہ پھر میری پشت پر آگیا۔اس نے میرے کولہے پر لوہے کی چھڑ ی سے دوبار ضرب لگائی۔ میں کچھ دیر کے لئے بے جان سا ہوگیا۔مجھ پربھدی گالیوں کی بوچھار ہونے لگی۔ اب کچھ سمجھدار قسم کی آوازیں آنے لگیں: تمہیں اپنی جان زیادہ پیاری ہے یا فون؟میں نے اس نوجوان کو اپنا فون دیدیا۔انہوں نے نعرے لگائے اور وہ نوجوان میرا فون لے کر بھیڑ میں گم ہوگیا۔

 مجھے لگا کہ میں چھوٹ گیا ہوں۔لیکن یہ وقتی تھا۔جلد ہی پیچھا کرکے مجھے ایک دوسری بھیڑ نے گھیرلیا۔ایک پچاس سالہ شخص نے میری آنکھوں پر لگا چشمہ اتارکر نیچے پھینکا اور پھر اس کے اوپر چڑھ گیا۔پھر اس نے ’ہندوؤں کے غلبہ والے علاقے سے رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں‘مجھے دو تھپڑ مارے۔انہوں نے میرا پریس کارڈ چیک کیا:۔۔۔۔ شونرائن راج پروہت‘ ہونہہ‘  ہندو ہو؟بچ گئے!۔۔۔۔لیکن وہ  اس پر بھی مطمئن نہیں ہوئے۔۔انہوں نے مجھ سے ’اصلی ہندو‘ہونے کا مزید ثبوت مانگا:۔۔۔ بولو جے شری رام۔۔میں خاموش رہا۔---انہوں نے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ اگر جان بچانا چاہتا ہے تو فوراً بھاگ جا۔ان میں سے ایک نے کہا:۔۔۔ ایک اور بھیڑ آرہی ہے آپ کے لئے۔۔۔میں اپنی موٹر سائکل کی طرف بھاگا۔میں نے بائک کی چابی کے لئے اپنا تھیلا(Bag)  چھان مارا۔ایک ایک منٹ قیمتی تھا۔بھیڑ میں سے ایک اور بولا: جلدی کرو  وہ لوگ چھوڑیں گے نہیں۔۔۔میں بائک اسٹارٹ کرکے اندھوں کی طرح بھاگا۔مجھے یاد نہیں کہ میں کس گلی میں جارہا ہوں۔بس اپنی جان بچانی تھی‘سومیں انجان گلی میں گھس گیا۔۔۔۔۔“                 (ترجمہ بشکریہ: ایم  ودودساجد)

ایک نظر اس پر بھی

پوری دنیا ایک نادیدہ دشمن سے مصروف جنگ ہے؛ پوری دنیا بیک وقت ایک ہی قسم کے عذاب میں مبتلا .... سہیل انجم

اس وقت پوری دنیا ایک ایسے دشمن سے مصروف جنگ ہے جو دکھائی نہیں دیتا، جو اندھیرے کا تیر ہے، جو کبھی بھی کسی کو بھی آکے لگ سکتا ہے اور اس کی زندگی کی شمع گل کر سکتا ہے۔ایشیا ہو یا افریقہ، امریکہ ہو یا یوروپ، خطہ خلیج ہو یا کسی اور علاقے کا کوئی ملک سب اس کی زد پر ہیں اور سبھی تباہی و ...

کورونا وائرس کی سنگینی کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے؛ بازاروں میں غیر ضروری گھومنے سے پرہیز اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں

ہندوستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس وقت اس خطرناک وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد کے حساب سے مہاراشٹرا نمبر ایک کیرالہ نمبر2 جبکہ کرناٹک نمبر 3 پر ہے۔

کرونا وائرس سے متاثرہ بھٹکل کے تینوں لوگوں کے دبئی کے دوست احباب کی رپورٹ نگیٹیو؛ کیا دبئی میں بھی بھٹکلی شخص کورونا میں ایڈمٹ ہے ؟

کرونا وائرس سے متاثرہ تینوں افراد کے  دبئی میں مقیم دوست احباب نے دبئی اسپتال پہنچ کر اپنی جانچ کرائی ہے اور سبھوں  کی رپورٹ نیگیٹو موصول ہوئی ہے۔ دبئی کے سماجی کارکن جناب جیلانی محتشم نے بتایا کہ  انہوں نے تینوں لوگوں کے دوست احباب اور رشتہ داروں سے رابط  کیاتھاجنہوں نے ...

کورونا =این پی آر !!! ...... از: مدثر احمد

طوفان نوح سے قبل حضرت نو ح علیہ السلام نے کئی دعائیں اللہ رب العزت کے حضور میں مانگیں ، اس دوران جب وہ کشتی بنارہے تھے انکی قوم نے ان سے سوال کیا کہ اے نوح آخر کیا بات ہے کہ آپ خشکی پر کشتی بنارہے ہیں جبکہ پانی میں کشتی بنائی جاتی تھی ۔

نظام الدین کے اجتماع میں شریک حضرات جانچ کروالیں: اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم کی اپیل

ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم نے اپنے ایک اخباری بیان میں تبلیغی مرکز نظام الدین کے اجتماع میں مارچ کے دوران شرکت کرنے الوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ضلع یا تعلقہ میں محکمہ صحت سے رابطہ کر کے اپنی جانچ کروالیں۔

متحدہ عرب امارات: مدت ختم ہو جانے والے اقاموں میں 3 ماہ کی توسیع کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات میں کابینہ نے متعدد نئے فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلے ملک میں مختلف سیکٹروں کو کرونا وائرس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں ، غیر ملکی مقیمین اور امارات کا دورہ کرنے والوں کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

تبلیغی جماعت کے ساتھ وائرس لگانے والے کسی وائرس سے زیادہ خطرناک: عمر عبداللہ

 نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سوشل میڈیا پر تبلیغی وائرس کے ہیش ٹیگ استعمال کرنے والوں کو دنیا کے کسی بھی وائرس سے زیادہ مہلک و خطرناک قرار دیا ہے اور انہیں ذہنی بیمار قرار دیا۔

فرقہ واریت کے جراثیم کورونا سے زیادہ خطرناک؛ نظام الدین کے واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کے تعلق سے میڈیا میں ہونے والے منفی پروپیگنڈے کے تناظرمیں کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پور املک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متحد ہو کر کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے ...