بھٹکل کی زمینات کے مسائل کو حل کرنے تنظیم کا روینیو منسٹر سے مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 26th January 2021, 12:27 AM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:25؍جنوری (ایس اؤ نیوز) بھٹکل کے کئی ایک مسائل کو پیش کرتے ہوئے قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل کی جانب سے ریاست کرناٹک کے روینیو منسٹر آر اشوک  کو میمورنڈم پیش کیاگیا جس میں مسائل کو حل کرنے کی طرف وزیر موصوف کی توجہ دلائی گئ ہے۔ میمورنڈم میں بالخصوص  سروئیر آفس سے عوام کو گھروں اور عمارتوں کی تعمیر کے لئے منظوری نہ ملنے  اور کے جی پی سروے نہ ہونے سے پیش آنے والی مشکلات کو پیش کرتے ہوئے اسے حل کرنے کامطالبہ شامل ہے۔

میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ بھٹکل میں کئی سارے مسائل حل ہوئے بغیر جوں کے توں باقی ہیں۔ خاص کر شہر کے کئی علاقوں کےنقشے سروئیر آفس میں موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طورپر تعلقہ کے سوسگڈی علاقے کے نوائط کالونی ، عثمان نگر اور پرانےشہر کے سروے نمبر 9999، 35/اے1/351،اے 1اے 2، 510بھٹکل کے گلمی سروے نمبر 267اے اور جالی دیہات میں حکومت کی طرف سے منظورکردہ سروے نمبر 66پر قریب 120پلاٹوں کے نقشے موجود نہیں ہیں۔ اور وینکٹاپور دیہات کے سروے نمبر 88پر 150پلاٹ کے نقشے نہیں ہیں۔ یہ سبھی قدیم علاقوں میں شمار کئے جاتےہیں ، آج تک ان علاقوں کے نقشے سروئیرآفس میں نہیں ہیں۔ عوام جب کبھی گھر یا کسی عمارت کی تعمیر کے لئے سروئیر آفس کو نقشے کے لئے عرضی دیتے ہیں تو مندرجہ بالا  سروے کے مطابق آفس کی طرف سے ہمارے پاس اس جگہ کا نقشہ نہ ہونے کی تحریر سونپی جاتی ہے۔ نوائط کالونی اور دیگر علاقوں میں حکومت کی طرف سے 50برس پہلے ہی منظورشدہ بے شمار پلاٹ کے نقشے بھی سروئیر آفس میں نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام کو کے جی پی بنانے اور وہاں پر گھر یا عمارتوں کی تعمیر کے لئے کافی دشواریاں  پیش آرہی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر بھٹکل کی ترقی نہیں ہوپارہی ہے۔ روینیو دفتر  میں بھی بھٹکل کے کئی علاقوں کے نقشے دستیاب نہیں ہیں ا س کے علاوہ کئی اور علاقوں میں کے جی پی سروے نہ  ہونے سے عوام کو کافی تکالیف کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں جلد سے جلد مسئلے کو حل کرنے   کا مطالبہ  کیا گیا ہے۔

میمورنڈم میں مخدوم کالونی اور  نوائط کالونی میں درپیش زمینی دستاویزات کی مشکلات کو حل کرنےپر بھی  زور دیا  گیا ہے۔  بھٹکل میں سروئیر آفس، روینیو آفس اور میونسپالٹی کے عدم تعاون سے متوفی افراد کے نام کی جائیداد کی منتقلی ، نئے ناموں کا اندراج، تعمیر سبھی کچھ رکا ہواہے، تنظیم نے میمورنڈم میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ  ان تمام  مسائل کو لےکر  تنظیم کی طرف سے کئی  مرتبہ اسسٹنٹ کمشنر اور  ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم دئیے جاچکے ہیں  مگر  کوئی فائدہ نہیں ہواہے۔تنظیم نے  مطالبہ کیا ہے کہ  ان مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل  کیا جائے۔ میمورنڈم کی نقل اترکنڑاضلع نگراں کار وزیر شیورام ہیبار کو بھی سونپی گئی  ہے۔  تنظیم کی طرف سے  صدر ایس ایم پرویز نے میمورنڈم پیش کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

اترکنڑا ضلع کے تعلقہ جات میں باکڑا بیوپاریوں کی زندگی اجیرن : مسائل کو پوچھنے والا کوئی نہیں

سڑک کنارے بیوپار کرتےہوئے اپنی زندگی گزارنے والے باکڑا بیوپاریوں کی دکھ بھری کہانی سرکاری پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت پیش کررہی ہے۔ باکڑا بیوپاری بارش ہویا  گرمی ، سڑک کنارے کی 4فٹ جگہ پر ہی ان کی روزانہ کی کمائی ہوتی ہے۔ کوویڈ کے دوران بیوپار نہ ہونےوالے  نقصان  کی ...

منگلورو کے ہوائی اڈے پر4برسوں میں 32.96کروڑ روپئے مالیت کا 95.12کلوگرام سونا ضبط

منگلوروبین الاقوامی ہوائی اڈے پر 2017سے اب تک اسمگلنگ معاملات میں 95.12کلو گرام سونا ضبط کیاگیا ہے۔متعلقہ جانکاری ہوائی اڈے کے کسٹم معاون کمشنر نے ایک آرٹی آئی عرضی کے جواب میں  دیتے ہوئے  کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر  خلیجی ممالک سے وطن لوٹنے والے مسافروں سے متعلقہ  سونا ضبط کیاگیا۔

یلاپور کی نندولی دیہات کی طالبہ کا اغواء کاری معاملہ : ماں کے خوف سےخود لڑکی نے  گھڑی تھی جھوٹی کہانی  

یلاپور تعلقہ نندولی دیہات میں دسویں میں زیر تعلیم طالبہ کے اغواءکاری معاملے کی  سچائی کا پتہ چلتے ہی جانچ میں جٹی پولس ٹیم حیرت میں پڑگئی ہے۔ لڑکی نے جھوٹی کہانی گھڑتے ہوئے خود اغواء ہونےکا ناٹک رچے جانے کی بات لڑکی نے پولس کے سامنے بیان کی ہے۔